Sunday, April 26, 2020

ٹیلی کلینک

ٹیلی کلینک
جماعت اسلامی پاکستان کے ڈاکٹرز کی تنظیم
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کا ایک اور خوبصورت انداز .
 وٹس ایپ پر اپنا مسئلہ لکھ کر یا آڈیو کے ذرہعہ بھیجیں۔۔کال مت کریں اٹینڈ نہیں ہوگی۔

السلام علیکم،
حالات کے پیش نظر ڈاکٹرز نے اللہ کی رضا کیلئے واٹس ایپ پر🩺 *ٹیلی-کلینک*🩺 کا آغاز کیا ہے تاکہ علاج یا کسی بھی طبی مشورے کیلئے مریضوں کو گھر سے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے
اللہ ہمارے ملک اور پوری ۔ انسانیت کی حفاظت فرمائے ۔

شکریہ
🩺ڈاکٹر ظفر اقبال
ناک کان گلہ
0301-7026914

🩺ڈاکٹر عمران
ماہر امراض گردہ
0321-3093663

🩺ڈاکٹر وقاص قریشی
فیملی فزیشن
0320-0724587

🩺ڈاکٹر عامر عادل
معدہ جگر آنت
0300-8662579

🩺ڈاکٹر محمد عارف
دل بلڈ پریشر
0300-9666875

🩺ڈاکٹر عمیر چوہدری
چائلڈ اسپیشلسٹ
0300-7206935

🩺ڈاکٹر آصف لطیف
ایکسرے الٹرا ساؤنڈ
0300-6671026

🩺ڈاکٹر اعجاز واہلہ
شعبہ انتہائی نگہداشت
0300-6626115

🩺ڈاکٹر نعمان اکرم
نیوروفزیشن
0300-9459434

🩺ڈاکٹر خاور شہزاد
آرتھوپیڈک
0333-6574689

🩺ڈاکٹر اعجاز لک
امراض چشم
0300-9650703

🩺ڈاکٹر ذوالقرنین
فیملی فزیشن
0305-5684628

🩺ڈاکٹر رحمن مقبول
جنرل سرجن
0300-6506144

🩺ڈاکٹر ملک آفتاب اسلام
معدہ جگر
0300-7258400

🩺ڈاکٹر غفران سعید
ماہر امراض جلد
0322-7611321
(واٹسیپ)

🩺ڈاکٹر شاہد اقبال گل
فیملی فزیشن
0322-7611321

🩺ڈاکٹر عنبرین
گائنی.                                            واٹس ایب 
00966-567336011

❤❤ سلام ڈاکٹرز ❤❤

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسو سی ایشن

Monday, April 6, 2020

ﻭﮦ ﺭﯾﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﭨﯿﭽﺮ ﺗﮭﮯ۔۔۔۔

ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﺟﺎﻥ ﻣﺎﺭ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮑﮭﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ . ﻭﮦ ﺭﯾﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﭨﯿﭽﺮ ﺗﮭﮯ . ﺍُﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺟﻤﻊ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ -
ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﻮﮞ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺩﻭ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺩﺋﮯ . .. ﭘﮭﺮ ﺩﻭ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺩﺋﮯ ... ﺗﻮ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﻞ ﮐﺘﻨﮯ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ؟
ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ silky ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎﮐﮧ
* ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺟﯽ " ﭘﺎﻧﭻ *"
ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭ ﭘﻨﺴﻠﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﺘﻨﯽ ﮬﻮﺋﯿﮟ؟
ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ،
ﭘﮭﺮ ﺩﻭ ﭘﻨﺴﻠﯿﮟ ﭘﮑﮍﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ؟
ﭼﺎﺭ " ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ 
ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ﺟﻮ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺗﮭﯽ .....
ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﻮﭼﮭﺎ ...
ﺍﭼﮭﺎ ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺩﻭ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﭘﮭﺮ ﺩﻭ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﺗﻮ ﮐُﻞ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ .... ؟ "* ﭘﺎﻧﭻ " ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻓﻮﺭًﺍ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ *.
ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺮﺳﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﺪﮐﮯ ﮐﮧ ﮐﺮﺳﯽ ﺳﻤﯿﺖ ﮔﺮﺗﮯ ﮔﺮﺗﮯ ﺑﭽﮯ ......
ﺍﺅ ﺍﺣﻤﻖ ‘‘‘ ﭘﻨﺴﻠﯿﮟ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ "4" ﮨﻮﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ "5" ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟
ﺍُﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ ...
 ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺟﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮨﮯ " ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔    
ﮬﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮬﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺑﺎﺅ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﺳﮯ ﻟﮯﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ .
ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟﺐ ﺣﺪﯾﺚ ﻧﺒﻮﯼ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
 ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺩﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،

آمین یارب العلمین۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

یا اللہ جو تو نے عطا کیا ؛
اور جو تو نے عطا نہیں کیا ؛
اور جو تو نے دے کرلے لیا ؛
  ان سب پر تیرا شکر  ؛
کیوں کہ جو تو نے عطا کیا 
وہ تیری " نعمت "
اور جو تونے عطا نہیں کیا ؛
اس میں تیری "حکمت "
اور جو تو نے دے کر لے لیا 
وہ ہمارا " امتحان "
یا اللہ ہمیں ہر حال میں 
شکر ادا کرنے والا بنادے ۔

آمین یارب العلمین

تین چیزیں یادرکھیں ...

🌴🌷تین چیزیں یادرکھیں  🌷🌴

✍تین چیزیں ایک ہی جگہ پرورش پاتی ہیں؛؛؛
 پھول ؛     کانٹا   ؛     خوشبو   ؛ 

✍تین چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں  ؛؛؛ 
خوشی   ؛   غم    ؛     موت     ؛  

 ✍تین چیزیں ہر ایک کی الگ الگ ہو تی ہیں ؛ 
صورت   ؛    سیرت    ؛      قسمت  ؛

✍ تین باتوں کو کبھی چھوٹا نہ سمجھو    ؛؛؛؛ ؛
مر ض    ؛     قرض     ؛     فرض   ؛ 

✍تین چیزوں کو کبھی نہ ٹھکراؤ    ؛؛؛ ؛؛
دعوت    ؛     تحفہ    ؛     مشورہ   ؛

✍تین چیزوں کو ہر کوئی اپنا لے    ؛؛؛ َََََ؛
 صبر    ؛      شکر    ؛    رزق حلال؛

✍تین باتوں کو ہمیشہ یاد رکھو  ؛؛ :؛
 نصیحت  ؛    احسان   ؛    موت  ؛
  
✍تین چیز کو ہمیشہ پاک رکھو  ؛؛؛؛ ؛؛؛َ:
 جسم    ؛     لباس    ؛   خیالات   ؛

 ✍تین چیزیں حاصل کرو   ََََََ؛؛؛ ؛؛؛؛

علم      ؛    اخلاق    ؛     ہنر     ؛ 

     ✍تین چیزوں سے پرہیز کرو ؛؛؛؛ َََََََُ؛؛؛
غیبت    ؛    حسد   ؛   چغلخوری؛

✍تین چیزوں کو قابو میں رکھو ؛؛؛؛ ؛؛؛؛؛
زبان    ؛     غصہ   ؛     نفس  ؛  
  
✍تین چیزوں کیلئے  لڑو ؛؛؛ ؛َ؛؛؛؛
وطن   ؛    حق   ؛     عزت   ؛  
  
✍تین چیزیں کبھی واپس نہیں آ تیں ؛؛؛ ؛؛؛
زندگی   ؛    جوانی   ؛     وقت  ؛
S

توبہ کریں مگر کس بات سے؟

▶ کرونا وائرس سے نجات پانے کا سب سے بڑا اور اسان حل وہ یہ کے  ہم آللہ کے حضور توبہ کریں◀

توبہ کریں مگر کس بات سے؟

- شرک سے
- نمازوں میں کوتاہی سے
- تلاوت میں غفلت سے
- سنتوں کو معمولی سمجھنے سے
- زکوٰۃ کو بوجھ سمجھنے سے
- بے حیائی اور بد نظری سے
- بد اخلاقی و بد زبانی سے
- والدین کا دل دکھانے سے
- ساس سسر کو تنگ کرنے سے
- خاندانوں میں فساد مچانے والی باتوں سے
- چغل خوری سے
- خون کے رشتے ناطے توڑنے سے
- اپنے ماتحتوں پر ظلم سے
- اپنے ملازمین کو تنگ کرنے سے
- شوہر بیوی پر اور بیوی شوہر پر ظلم کرنے س توبہ کریں 
- اپنی زبان سے دلوں کو زخمی کرنے سے
- اپنی طاقت و اختیار سے دوسروں کو دبانے سے
- دوسروں کا مال ناجائز کھانے سے
- اپنے طنز و مزاح سے دوسروں کو بے عزت کرنے سے
- مالِ حرام کھانے سے
- جھوٹ کو معمولی گناہ سمجھنے سے
- غیبت کو عادت بنانے سے
- پڑوسیوں کو ستانے سے
- تکبر سے
- ریاکاری سے
- بدگمانی سے
- غریب کو کمتر جاننے سے
- دل میں کسی کا برا چاہنے سے
- کسی کے خلاف دل میں رنجش پالنے سے
- ظالم کا ساتھ دینے سے
- اہل دین کو ستانے سے
- علماء کو حقیر جاننے سے
- علمِ دین سے غفلت سے

اور ہر اس بات سے جس سے اللّٰہ تعالیٰ یا اسکی مخلوق کا کوئی حق ضائع ہوتا ہے۔

ہم توبہ کرتے ہیں ہمارے مالک، ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس عطا فرما، انکو معاف فرما، اصلاح کی توفیق عطا فرما، اور نیکی پر استقامت عطا فرما، آمین
⏪ از قلم
مولانا قاری محمد زکریا اسماعیل

زندگی کا حق

‏‎زندگی کا حق ہے کہ
اسے تقسیم کرو 

"خيرالناس من ينفع الناس"🍃

بہترین لوگ وہ ہیں
جو دوسروں کو فائدہ پہنچائیں.

اللہ کے ہر کام میں بہتری ہے


➖➖☘️🌻☘️➖➖

♦  کرونا وائرس سےہونے والی کچھ اچھی تبدیلیاں..  ♦

🏳‍🌈آسمان کا رنگ بدل 
چکا ھے

☀ دھوپ اور سورج میں بہت فرق پڑ گیا ہے ☀ سورج زیادہ چمکدار ہو گیا ہے 

🌄دھوپ زیادہ روشن ھو گئی ہے کیونکہ آسمان پر آلودگی ختم ھو گئی 

❌موٹر گاڑیاں ھوائی جہاز ٹرینیں فیکٹریاں بند ھونے سے فضا صاف شفاف ھو گئی ھے. 

🌴 ھوا خالص ھو گئی ہے جس کی وجہ سے درخت پھول اور پتے زیادہ تندرست اور تازہ لگ رہے ہیں.. 

🔕شور کم ھونے سے ایک سکون اور امن ھے لوگوں کی بھاگ دوڑ ختم ھونے کی وجہ سے ایک سکون اور اطمینان سا ہے.. 

✅انسان بہت خالص ھوتے جا رہے ہیں 

♨ایک انجانے خوف نے دنیا کے جلووں اور رنگینیوں سے متنفر سا کر دیا ہے.. 

🚷 معاشرتی تنہائی جو ڈاکٹروں کی وجہ سے پیدا کی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگ اپنے قریبی رشتوں کو بہت مس کرنے لگے ہیں ان کے قرب کے لیے تڑپ سی پیدا ہو گئی ہے

🚰.. ھر شخص پاک صاف رھنے لگا ھے بار بار منہ چہرہ دھونے کی وجہ سے چہرے پر ایک عجیب سی نرمی اور تازگی آ گئی ہے... 

👨‍👩‍👧‍👦کام کاج بند ھونے سے گھر کے افراد ایک دوسرے کو وقت دینے لگے ہیں 
.. 
🕋موت کے خوف نے انسانوں کو خدا کے قریب کر دیا ھے. کوئی عبادت کرے یا نہ کرے لیکن ھر کوئی ھر وقت پاک صاف رھتا ھے.. 

✅ لوگ میں صفائی ستھرائی کا شعور پیدا ھو گیا ہے.. 

😷عورتیں چاھے ماسک کی وجہ سے ہی سہی لیکن گھر سے نکلتے ہوئے چہرے چھپانے لگی ہیں... 

✅ایک دوسرے کو چھونا تو دور کی بات ھر کسی سے چھ فٹ فاصلہ رکھ کر چلا جاتا ہے جس سے کسی بھی شخص کو آزادی سے کھلی جگہ چلنے کا موقع ملتا ھے.... 

🚫ماسک لگانے کی وجہ سے چہرے کے بناؤ سنگھار میں کمی آ گئی ھے جس سے سادگی کا احساس ھوتا ھے... 

◼ مختصر لباس پہننے والیاں مکمل لباس پہننے لگی ہیں.. 

💐✅لوگوں میں ایثار کا جذبہ پیدا ھونے لگا ھے..

🔰 ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر انسانوں کو ایسا بنانے کی کوشش کرتے رہے... لیکن جب اللہ نے خود سات ارب انسانوں کو ایسا بنانا چاھا تو اس کے نہ نظر آنے والے معمولی سپاہیوں نے ایک لمحے سے پہلے سب کو سیدھا راستہ دکھا دیا...

خلافت عثمانیہ کیوں ختم ہوئی؟؟؟😥



عرب شریف میں 1922 تک ترکی کی حکومت تهی.جسے خلافت_عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا هے.1922سے پہلے سعودی عرب کا نام سعودی عرب نہیں بلکہ حجازِ مقدس تھا۔
خلافت عثمانیہ دنیا کے تین براعظموں پر 623 سال (1299-1922) تک قائم رہی۔
جب بهی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم هوتا تها تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی.امریکہ ، برطانیہ ،یورپین ، نصرانی اور یہودیوں کو اگر سب سے زیادہ خوف تها تو وہ خلافت_عثمانیہ حکومت کا تها.
امریکہ ، یورپ جیسوں کو معلوم تها کہ جب تک خلافت_عثمانیہ هے' هم مسلمانوں کا کچهہ بهی نہیں بگاڑ سکتے هیں.
امریکہ و یورپ نے خلافت_عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی.
19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ اور روس کے درمیان بہت سی جنگیں بھی ہوئیں چونکہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کے نزدیِک قابلِ احترام ہیں اسی لئیے  نے سب سے پہلا فتنہ وہیں سے شروع کروایا۔
ا
مریکہ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کهڑا کیا جو کرسچیئن تها ' ایسی عربی زبان بولتا تها کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں آیااس نے عرب کے لوگوں کو خلافت_عثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی کہ تم عربی هو اور یہ ترکی عجمی(غیر عربی) هیں هم عجمی کی حکومت کو کیسے برداشت کر رهے هیں
پر لوگوں نےاسکی ایک نہ مانی.

یہ شخص "لارنس آف عریبیہ" کے نام سے مشہور ہوا(آپ لارنس آف عریبین لکهہ کر گوگل پر سرچ کرسکتے ہیں)
پهر امریکہ نے ایک شخص کو کهڑا کیا جس کا نام عبدالوهاب نجدی تھا۔
  عبدالوهاب نجدی کی ملاقات عرب کے ایک سوداگر سے هوئی
جس کا نام ابن سعود تها اس نے  ابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا۔
پهر ابن سعود نے مکہ ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی

مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے لاکهوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے هاتهوں شہید هوئے جب ترکی نے دیکها کہ ابن سعود همیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رها هے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ
"هم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے"
اس وجہ سے خلافت_عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔

 جس کی وجہ سے  40  نئے ممالک وجود میں آئے۔ پهر عرب اور کے مسلمانوں کا زوال شروع هوا حجازمقدس کا نام 1400 سال کی تواریخ میں پہلی بار بدلا گیاابن سعود نے حجازمقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکهہ دیا..

اور اس فتنے کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے اور اسی وجہ سے سرکارِ دو عالمﷺ نے سعودی عرب کے شہر نجد کے بارے میں دعا نہیں فرمائی تھی ۔ اسی نجد میں ابن عبدالوهاب نجدی پیدا ہوا جس سے انگریزوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈلوائی اور یہی شہر مسیلمہ کذاب کا جائے پیدائش بھی ہے۔

لیکن دنیا بھر کے  مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئیے انگریزوں نے اس ’نجد‘ شہر کا نام بھی تبدیل کر کے ’ریاض‘ رکھ دیا جو آج کل سعودیہ کا دار الحکومت ہے۔

حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اهلبیت کے نام پر تهےان کا نام آلسعود کے نام پر رکها گیا (آپ یہ ساری معلومات انٹرنیٹ کے علاوہ تمام تاریخ کی کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں)
 انگریزوں نے اپنی اسی سازش کی کامیابی پر 1962 میں ہالی وُڈ نے ’’ Lawrence of Arabia‘‘ کے نام سے فلم بھی بنائی جو بہت زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے۔
یہود و نصاری کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی  جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن اک جشن هوا اس جشن میں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے پرائم منسٹر ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ گئے

جس عرب کے نام سے یہود و نصاری کانپتے تهے وه سعودیہ ' امریکہ کے اشارے پر ناچنے لگااور آج بهی رندوں کے ساتهہ ناچ رها هے
یہود و نصاری کی اس ناپاک سازش کا ذکر کرتے هوئے
"علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے کلام میں لکها هے"
وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اسکے دل سے نکال دو
فکر_عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز اور یمن سے نکال دو
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے فتنوں سے محفوظ فرما کر پھر سے خلافت کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ماضی کے تلخ حقائق کو سمجھنے کی عقل عطا فرمائے۔ آمین

#ٹرینڈ

#ٹرینڈ 

"ہمارے ملک میں ہر کچھ دنوں بعد ٹرینڈ بدل جاتا ہے۔
چند دنوں کے لیے کسی کو اچھا بنا دیا جاتا ہے اور پھر کچھ دنوں بعد اسی کو برا بنا کر سامنے لایا جاتا ہے۔
کبھی کسی کے حق میں سوشل میڈیا پر پوسٹیں کی جاتی ہیں، کبھی اسی کو بد نام کیا جاتا ہے۔" میں جارج کو اپنے ملک کا تعارف کرا رہا تھا۔
"اور آج کل کیا ٹرینڈ چل رہا ہے؟"
جارج نے پوچھا تو میں نے کہا:

"احسان فراموشی۔

جن سے کچھ دنوں پہلے دعائیں لیں آج کل ان کا نام خراب کیا جا رہا ہے۔" 

سیف الرحمن ادیؔب۔

انسان کے اسلام کو خیر۔۔۔


السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو..کھانا کھلانے کا..ذوق،شوق،مزاج اور حوصلہ عطاء فرمائیں..یہ ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے اسلام کو خیر سے بھر دیتی ہے..بخاری،مسلم کی روایت ہے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا..کون سا اسلام بہترین ہے(خیر والا ہے) فرمایا کھانا کھلایا کرو اور سلام کیا کرو جاننے والوں کو بھی اور نہ جاننے والوں کو بھی..کھانا کھلانے کا ذوق ایک مسلمان کو اللہ تعالی کے قریب کر دیتا ہے..فرائض کی پابندی اور حرام سے اجتناب کے بعد..یہ وہ اعمال ہیں جو ہمارے دین اور دنیا کو خوبصورت بناتے ہیں..کئی علاقوں میں رسم ہے کہ کسی کی شادی پر رشتہ دار اسے ھدیہ دیتے ہیں..یہ ھدیہ لکھا اور یاد رکھاجاتاہےاور پھر جب دینے والوں کے ہاں شادی ھوتو کچھ اضافے کے ساتھ واپس لوٹایا جاتا ہے..یہ رسم خطرناک ہے اور سود کے دائرے میں جاتی ہے..کسی کوکچھ کھلائیں یا دیں توخالص اللہ تعالی کی رضاء کی نیت کریں..کسی بدلے،شکرئیے کی نیت نہ کریں..مال اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے..اسے بے حد قیمتی بنایا کریں..اوریہ قیمتی بنتا ہے دینے سے..اور دینا بھی وہ جوخالص اللہ تعالی کی رضاء کے لئے ھو..اپنے مال کو دکھلاوے، رسومات اورمجبوری کے لین دین میں ضائع نہ کریں..کھانا کھلانے کی صفت انسان کے دل کا علاج ہے..آجکل جو”دعوت“کے لئے”پرتکلف“کھانا لازمی بن گیا ہے..اس نے کھانا کھلانے کے محبوب عمل کومحدود کردیا ہے..دال روٹی چٹنی کی دعوت بھی کیا کریں..برکت اور اللہ تعالی کی رضاوالا یہ عمل..مسلمانوں کودوبارہ پوری شان سے نصیب ھوجائے!
والسلام
خادم..
لا اله الا الله محمد رسول الله

#ردی

#ردی

ہمارے علاقہ شہر سے ذرا ایک طرف ہے۔ وہاں کوئی بڑا میڈیکل اسٹور نہیں ہے۔
کالج سے واپسی پر کچھ دوائیں لینی تھیں۔  اتفاق کی بات ہے کہ میری جیب میں پیسے بہت کم تھے اور دوائیں لینا لازمی تھا۔
میں نے میڈیکل اسٹور والے کو کہا:
"میں روزانہ یہاں سے گزرتا ہوں۔ آج دوائی دے دیں۔ پیسے کل لے لینا۔"
"ٹھیک ہے۔مگر کچھ گروی رکھوالو!"
میرے بستے میں اشتیاق احمد مرحوم کا ایک ناول موجود تھا۔ میں نے ناول آگے بڑھایا تو کہنے لگا:

"کوئی اچھی چیز گروی رکھواٶ! یہ تو بیس روپے کی ردی بھی نہیں ہے۔"

سیف الرحمن ادیؔب

دِل" سے"

"دِل" سے
بولـــــــــــــــــــــــــــنا!
سیکھیں گے تَو،
لوگ "دِلُوں" سے سُنیں گے،
اور اگر!
"زُبان" سے بولنا سیکھیں گے تَو،
لوگ صِرف "کانُوں" سے ہی سُنیں گے•••

برمودا ٹرائی اینگل ۔۔۔۔۔۔۔

برمودا ٹرائی اینگل کا نام ہمیشہ سے ہی ایک کانسپریسی کے طور پر لیا جاتا ہے- برمودا ٹرائی اینگل سے مراد یہ نہیں کہ وہاں کوئی واقعی ہی ٹرائی اینگل پڑی ہوئی ہے بلکہ یہ 3 ملکوں کے درمیان ایسی جگہ ہے جو کہ جیومیٹریکلی تکون کی شکل بناتی ہے ان میں فلوریڈا، برمودا اور پوریٹو ریکو کے درمیان کا ایریا شامل ہے-

اس جگہ کی مشہوری پہلی دفعہ 1945 میں ہوئی جب اس راستے سے گزرنے والا جہاز ریڈار سے غائب ہوگیا اور انکا کوئی پتہ نہیں چلا کہ وہ کدھر گئے- ابھی یہ حادثہ نیا ہی تھا کہ اس راستے سے گزرنے والا ایک بحری جہاز بھی غائب ہوگیا- یوں اس جگہ کے بارے میں انتہائی عجیب و غریب باتیں مشہور ہوگئی-

مثلا ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ اس حصے میں دجال قید ہے لہذا وہ اس ایریا سے کسی کو گزرنے نہیں دیتا جبکہ انگریزوں کا اس کے بارے میں کچھ اور نظریہ تھا-چنانچہ سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کرنے کی کوششیں شروع کردی اور وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے-

سونار ٹیکنالوجی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے آواز کی شعاعوں کو استعمال کرکے سمندر کے نیچے کی چیزیں دیکھ سکتے ہیں-اس میں بنیادی طور یہ اصول استعمال ہوتا ہے کہ آواز کو مخصوص فریکوئنسی پر سمندر کی تہہ میں بھیجا جاتا ہے اور وہ واپس آکر دوبارہ اوپر اوریجن پر پہنچتی ہے اور یوں اس سے ہم اندر کی ساری صورت حال کی ڈرایئنگ بنا کر اس کے نیچے کے حالات کا اندازہ لگالیتے ہیں-

چنانچہ سونار کی مدد سے برمودا ٹرائی اینگل کے نیچے کی سطح کا تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ برمودا ٹرائی اینگل میں سمندر کی سطح ایک جیسی نہیں بلکہ عجیب سی ہے جس میں کسی جگہ سرنگ ہے جس کا منہ کہیں سے کھلا اور کہیں سے بند ہے-کہیں سے تنگ ہے اس کے علاوہ اس جگہ میں میتھین گیس کی مقداربہت ہی زیادہ پائی گئی- اور یہ گیس پیکڈ حالت میں موجود تھی اور یہ گیس عام طور پر پیکٹس سے ایک دھماکے سے ریلیز ہوتی ہے اور جب یہ ریلیز ہوتی ہے تو اس وقت ہی وہاں حادثے ہوتے ہیں- یعنی برمودا ٹرائی اینگل میں ہر وقت حادثے نہیں ہوتے-بلکہ تب ہی حادثے ہوتے ہیں جب وہ میتھین گیس کے پیکٹس پھٹتے ہیں شائد یہی وجہ تھی کہ برمودا ٹرائی اینگل میں بحری جہاز اور چیزیں ڈوبتے تھے-

ہوائی جہاز کے غائب ہونے کی سائنس دانوں نے یہ توجیہہ پیش کی کہ اس سارے ایریا پر بادل چھائے ہوتے ہیں اور یہ بادلوں کی ہیکسا گونل قسم ہوتی ہے- جس کے اندر ایئر بم ہوتے ہیں تو جب یہ ایئر بم پھٹتے ہیں تو یہ ایئر بم 170 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نیچے کی طرف ہوا کا بھگولہ سا پیدا کرتے ہیں جو کہ ہر چیز کو الٹا پلٹا دیتا ہے-

یہودی بھی چونکہ اپنے مسیحا دجال کا انتظار کررہے ہیں اور انکو لگتا ہے کہ دجال نے کرونا بھیج کر دنیا کا ٹیسٹ لیا ہے لہذا 5 یہودی سائنس دان اب کی بار 6 دن پہلے ایک سونار ٹیکنالوجی والے بحری جہاز پر بیٹھ کر برمودا ٹرائی اینگل پہنچے اور پہنچ کر بالکل اسی طرح آواز کی شعاعیں سمندر کی تہہ میں بھیجیں اور اس دفعہ جیسے ہی آواز کی شعاعیں سمندر کی سطح سے ٹکرا کر واپس آئی تو ان آواز کی شعاعوں میں اس میں ایک نئی چیز بھی شامل تھی-انکو لگا کہ شائد اس میں انکے لیئے دجال کی طرف سے کوئی پیغام ہو- ی رکوا دی '' 
منقول

#دوصدیوں بعد ۔۔۔۔

#دوصدیوںبعد 

بہت سخت مقابلہ ہوا تھا۔
لاکھوں سے ہزاروں،
ہزاروں سے سینکڑوں،
سینکڑوں سے درجنوں اور
اب درجنوں کے بعد تین ہی امیدوار میدان میں کھڑے تھے۔ ہزاروں لوگ میدان میں اور کروڑوں لوگ انٹرنیٹ پر انہیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
پھر ان تینوں کے لیے انعامات لائے گئے۔ شیشے کے مرتبان میں کوئی عجیب سی شئے تھی۔
کچھ مٹی،
لکڑی کا ایک ٹکڑا اور
اس پر ہرے رنگ کی کوئی چیز لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب نے مجھے دیکھ کر کہا:
"بیٹا انہیں درخت کہتے ہیں۔
پرانے زمانے میں یہ مفت میں آکسیجن فراہم کیا کرتے تھے۔"

سیف الرحمن ادیؔب

لسٹ برائے۔۔قرآن میں انبیاء

آدم علیہ السلام
ادریس علیہ السلام
نوح علیہ السلام
ھود علیہ السلام
صالح علیہ السلام
ابراہیم علیہ السلام
لوط علیہ السلام
اسماعیل علیہ السلام
اسحاق علیہ السلام
یعقوب علیہ السلام
یوسف علیہ السلام
ایوب علیہ السلام
شعيب علیہ السلام
موسیٰ علیہ السلام
ہارون علیہ السلام
ذو الکفل علیہ السلام
داؤد علیہ السلام
سليمان علیہ السلام
الیاس علیہ السلام
الیسع علیہ السلام
یونس علیہ السلام
زکریا علیہ السلام عزیر علیہ السلام
یحییٰ علیہ السلام
عیسیٰ علیہ السلام
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

حجاج مشرقی ممالک کا سب سے بڑا حاکم تھا۔۔۔۔۔۔


موسیٰ بن نصیر رحمہ اللہ تعالیٰ: 
جس طرح حجاج مشرقی ممالک کا سب سے بڑا حاکم تھا، اسی طرح مغربی ممالک کا حاکم ولید بن عبدالملک کے عہدمیں موسیٰ بن نصیرتھا، جس کا جائے قیام مقام قیروان تھا، شمالی افریقہ کے اس سب سے بڑے حاکم کے پاس اندلس کے بعض لوگ آئے اور اپنے بادشاہ لذریق (راڈرک) کے ظلم و ستم کی شکایت کرکے التجا کی کہ آپ اندلس (اسپین) پر چڑھائی کر کے مراکش کی طرح اس کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیں۔
موسیٰ نے اہل اندلس کی اس درخواست پر چند روز غور کیا، اس کے بعد اپنے ایک غلام کو چار کشتیوں میں چار سو سپاہیوں کے ساتھ ساحل اندلس کی طرف روانہ کیا کہ وہاں کے حالات سے آگاہی حاصل ہو اور دوسری طرف خلیفہ ولید سے اندلس پر چڑھائی کرنے کی اجازت طلب کی، خلیفہ نے چڑھائی کی اجازت عطا کر دی، ادھر چار سو سپاہی بھی سالماً غانماً واپس آئے۔
۹۱ھ یا ۹۲ھ میں موسیٰ نے اپنے دوسرے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کو سات ہزار فوج دے کر اندلس پر حملہ کرنے کا حکم دیا، طارق اس زمانہ میں موسیٰ بن نصیر کی طرف سے طنجہ (واقع مراکو) کا حاکم تھا، وہ اپنے سات ہزار ہمراہیوں کے ساتھ کشتیوں پر سوار ہو کر اور بارہ میل کی چوڑی آبنائے جبل الطارق کو عبور کر کے ساحل اندلس پر اترا اور شمال کی جانب متوجہ ہوا، علاقہ شذونہ میں اسپین کا بادشاہ لذریق (راڈرک) ایک لاکھ جرار فوج کے ساتھ طارق کے مقابلہ پر آیا، آٹھ روز تک بڑے زور شور کی لڑائی رہی، آخر آٹھویں روز ۲۸ ماہ رمضان المبارک ۹۲ھ کو شاہ لذریق طارق کے مقابلہ میں مارا گیا اور عیسائی لشکر نے راہ فرار اختیار کی۔
اسی سال سندھ کا راجہ داہر محمد بن قاسمؒ کے مقابلہ میں مارا گیا تھا، اس کے بعد بڑی آسانی سے طارق اندلس کے شہروں کو فتح کرتا ہوا آگے بڑھا، اس فتح عظیم کا حال جب موسیٰ بن نصیر کو معلوم ہوا تو اس نے طارق کوآئندہ پیش قدمی سے رکنے اور اپنے پہنچنے تک انتظار کرنے کے لیے لکھا،  مگر طارق اور اس کے بہادر سپاہی اب رک نہیں سکتے تھے، آخر رمضان ۹۳ھ میں موسیٰ بن نصیر بھی اٹھارہ ہزار فوج لے کر اندلس پہنچ گیا اور تمام جزیرہ نمائے اندلس کو کوہ پیری نیز تک فتح کر لیا، مشرقی اندلس میں علاقہ برشلونہ کو فتح کرنے کے بعد موسیٰ نے ولید بن عبدالملک کو لکھا کہ میں نے تمام ملک اسپین کو فتح کر لیا ہے، اب اجازت دیجئے کہ میں یورپ کے اندر ہوتا اور فتوحات حاصل کرتا ہوا قسطنطنیہ پر پہنچوں اور فتح قسطنطنیہ کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔
لیکن ولید بن عبدالملک نے موسیٰ کو لکھا کہ تم اسپین میں کسی کو حاکم مقرر کر کے مع طارق بن زیاد میرے پاس براہ افریقہ واپس آؤ، اگر اس وقت موسیٰ بن نصیر کو اجازت مل جاتی تو یہ کچھ بھی دشوار نہ تھا کہ تمام براعظم یورپ فتح ہو جاتا۔
بہرحال! خلیفہ کے حکم کی تعمیل میں موسیٰ نے اندلس میں اپنے بیٹے عبدالعزیز کو گورنر مقرر کیا اور مراکو اپنے دوسرے بیٹے عبدالملک کو سپرد کیا اور قیروان میں اپنے تیسرے بیٹے عبداللہ کو جانشین بنایا اور اس انتظام سے فارغ ہو کر خود مع تحفہ و ہدایا دمشق کی جانب روانہ ہوا، لیکن یہ جس روز دمشق پہنچا ہے، خلیفہ ولید بن عبدالملک کا انتقال ہو چکا تھا۔ 

ولید بن عبدالملک کی وفات: 
ولید نے اپنے بھائی سلیمان کو ولی عہدی سے معزول کر کے اپنے بیٹوں کو ولی عہد بنانے کی جو کوشش کرنی چاہی تھی، اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکا، اگر وہ چند روز اور نہ مرتا تو شاید اپنے ارادے میں کامیاب ہو جاتا، لیکن اب یہ ہوا کہ سلیمان ان سرداروں کا جنہوں نے ولید کے ارادے کی تائید کی تھی دشمن ہو گیا، نیز ہر ایک اس سے جس کو ولید محبوب و مکرم رکھتا تھا، سلیمان کو دشمنی ہو گئی اور اس کا نتیجہ آئندہ عالم اسلام کے لیے کسی قدر مضر ثابت ہوا۔
ولید بن عبدالملک نے ۱۵ جمادی الثانی ۹۶ھ، مطابق ۲۵ فروری ۷۱۵ء میں پنتالیس سال، چند ماہ کی عمر میں نو سال، آٹھ مہینے خلافت کرنے کے بعد ملک شام کے مقام دیر مران میں وفات پائی اور ۱۹ بیٹے چھوڑے۔
ولید کے عہد خلافت میں سندھ، ترکستان، بخارا، سمر قند وغیرہ اور اندلس، ایشیائے کوچک کے اکثر شہر و قلعے اور بعض جزیرے اسلامی حکومت میں شامل ہوئے، ولید کی خلافت مسلمانوں کے لیے ایک طرف راحت و آرام اور خوش حالی کا زمانہ تھا تو دوسری طرف فتوحات ملکی کا خاص زمانہ تھا۔ 
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد اس قدر عظیم و اہم فتوحاتِ مُلکی اور کسی خلیفہ کے زمانہ میں اب تک مسلمانوں کو حاصل نہ ہوئی تھیں، جب ولید کا انتقال ہوا تو اس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک مقام رملہ میں تھا۔
سلیمان بن عبدالملک بیعتِ خلافت: 
سلیمان اپنے بھائی ولید سے چار سال عمر میں چھوٹا تھا، ولید کی وفات کے بعد اس کے ہاتھ پر جمادی الثانی ۹۶ھ میں بیعت خلافت ہوئی، حجاج چوں کہ سلیمان کو ولی عہدی سے معزول کرانے میں ولید کا ہم خیال تھا اور قتیبہ بن مسلم بھی اس معاملہ میں حجاج و ولید کا ہم نوا تھا، لہٰذا سلیمان کو حجاج و قتیبہ دونوں سے سخت عداوت تھی، حجاج سلیمان کے خلیفہ ہونے سے پہلے ہی فوت ہو چکا تھا، قتیبہ البتہ خراسان کی گورنری پر مامور اور زندہ موجود تھا، قتیبہ کو اس بات کا احساس تھا کہ سلیمان کی خلافت میں میرے ساتھ کس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا۔
قتیبہ بن مسلم باہلیؒ کا قتل: 
قتیبہ بن مسلم باہلی امیر خراسان نے جب سناکہ ولید فوت ہو گیا اور اس کی جگہ سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو اس نے خراسان کی تمام موجودہ فوج اور سرداران لشکر کو جمع کرکے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ سلیمان بن عبدالملک کی خلافت سے انکار کرناچاہیئے، قتیبہ کے پاس جو فوج تھی، اس میں ایک زبردست حصہ بنو تمیم کا تھا، بنو تمیم کا سردار وکیع تھا، وکیع نے یہ رنگ دیکھ کر لوگوں سے سلیمان بن عبدالملک کی بیعت خلافت لینی شروع کر دی، رفتہ رفتہ یہ خبر تمام لشکر میں پھیلی اور تمام قبائل وکیع کے گرد جمع ہو گئے، قتیبہ نے ہر چند کوشش کی کہ لوگ اس کی باتیں سنیں اور اس سے افہام و تفہیم کریں، لیکن پھر کسی نے اس کی بات نہ پوچھی اور علانیہ گستاخیاں کرنے لگے، قتیبہ کے ساتھ اس کے بھائی اور بیٹے اور رشتہ دار شریک رہے، آخر لشکریوں نے لوٹ مار شروع کر دی اور قتیبہ کی ہر چیز کو لوٹنا اور جلانا شروع کیا، قتیبہ کے رشتہ داروں نے قتیبہ کے خیمہ کی حفاظت کرنی چاہی، لیکن وہ سب مارے گئے اور بالآخر قتیبہ بھی بہت سے زخم کھا کر بے ہوش زمین پر گرا اور لوگوں نے فوراً اس کا سر کاٹ لیا، قتیبہ کے صرف بھائی اور بیٹے گیارہ شخص مارے گئے، اس کے بھائیوں میں صرف ایک شخص عمر بن مسلم اس لیے بچ گیا کہ اس کی ماں قبیلہ بنو تمیم سے تھی، وکیع نے قتیبہ کا سر اور اس کی انگوٹھی خراسان سے سلیمان بن عبدالملک کے پاس بھجوا دی۔
قتیبہ بن مسلم خاندان بنو امیہ کے سرداروں میں نہایت زبردست فتح مند اور نامور سردار تھا۔ ایسے زبردست سردار کی ایسی موت نہایت افسوس ناک حادثہ ہے، لیکن چوں کہ اس نے خلیفہ وقت کے خلاف کوشش کرنے میں ناعاقبت اندیشی سے کام لیا تھا، لہٰذا سلیمان بن عبدالملک پر قتیبہ کے قتل کا کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔ 

تاریخ اسلام۔ جلد ②، مولانا شاہ اکبر نجیب آبادی صاحب

<مکتوب خادم>


السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی نے ھمیں..اپنی ”عبادت“ کے لئے..پیدا فرمایا ہے..وما خلقت الجن والإنس الا ليعبدون..اس لئے ہر ”انسان“..اور ہر ”جن“ میں فطری طور پر..”عبادت“ کی بے پناہ ”صلاحیت“ موجود ہے..آپ جتنی چاھیں، جسقدر چاھیں”عبادت“ کرسکتے ھیں..اس کے لئے آپ کے وقت میں بےانتہا ”برکت“ دے دی جاتی ہے..آپ کے جسم میں مثالی طاقت دے دی جاتی ہے اور آپ کی ”زبان“ اور ”مال“ کو تھکاوٹ اور کمی سے کافی حد تک محفوظ فرما دیا جاتا ہے..بدنی عبادت، قولی عبادت، مالی عبادت..فرائض، سنن، نوافل، تلاوت، اذکار، سخاوت، خدمت..جو کام بھی اللہ تعالی کا حکم ہو..اور اللہ تعالی کی رضاء کے لئے ھو اور حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ھوئے طریقے پر ھو..وہ ”عبادت“ ہے..یہ موضوع بہت مفصل ہے..مختصر یہ کہ..اللہ تعالی کے مخلص بندوں نے جب خود کو ”عبادت“ میں لگایا تو وہ ایک دن میں اتنی عبادت کرلیتے تھے جو..عام لوگ مہینے میں نہیں کر سکتے..نماز، جھاد، حج، صدقات، تعلیم، تبلیغ، قیام سجدے، دعائیں اور کیا کیا..معلوم ہوا کہ..انسان میں ”عبادت“ کی خاص طاقت رکھی گئی ہے..مگر پھر بھی شیطان وسوسے ڈالتا ہے کہ..بس کرو اور بھی کام ہیں..اتنی دعائیں ھیں کون کون سی پڑھو گے؟..حالانکہ..عبادت جتنی زیادہ ہو..دنیا کے کاموں اور تقاضوں کے لئے پورا وقت بچ جاتا ہے..آج تک شیطان نے کسی مالدار کو یہ وسوسہ نہیں ڈالا کہ..اور پیسے کیا کروگے؟ کوئی کروڑ پتی، ارب پتی شخص..مزید مال سے نہیں اکتاتا جب کہ ھم..مزید عبادت اور دعاؤں سے اکتا جاتے ھیں..اللہ تعالی سے عافیت کا سؤال ہے..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله

#تنخواہ

#تنخواہ

سب دوست اپنی اپنی تنخواہ بتا رہے تھے۔ پروفیسر صاحب کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ تھی۔
وکیل صاحب بھی مہینے میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ اکٹھا کرلیتے تھے۔
احمد انجینئر تھا۔ ماہانہ تین لاکھ روپے کما رہا تھا۔ڈاکٹر صاحب سرکاری ہسپتال میں ڈیوٹی دینے کے بعد تین چار گھنٹے کلینک میں بھی بیٹھتے تھے۔ وہ بھی ایک لاکھ سے اوپر ماہانہ کما لیتے تھے۔
عزیر کسی بڑی سرکاری ادارے میں بہت بڑا افسر تھا۔ اچھا خاصا کما لیتا تھا۔
آخر میں میرا نمبر تھا۔ سب مجھے دیکھ رہے تھے اور میں نیچے دیکھ رہا تھا۔
میں مسجد کا امام تھا۔

سیف الرحمن ادیؔب

مرغی کے انڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آکسیجن

مرغی کے انڈے کے چپٹے سرے میں اللّٰہ تعالیٰ نے آکسیجن کا ایک بلبلہ رکھا ہے۔ انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی بغور دیکھ دیکھ کر اس سرے کو اوپر کرتی رہتی ہے۔ آپ نے اکثر اُسے چونچ سے انڈوں کو کریدتے ہوئے دیکھا ہوگا، اُس وقت وہ اصل میں یہی کام کر رہی ہوتی ہے۔
میرے اللّٰہ نے مرغی کو بھی سائنسدان بنایا ہے۔ بچے کا منہ اوپر کی جانب بنتا ہے، اگر تو انڈے کا چپٹا رُخ اوپر رہے تو چوزہ تخلیق کے مراحل کی تکمیل ہوتے ہی اُس بُلبلے سے سانس لیتا ہے، لیکن اس کے پاس مہلت محض اتنی ہوتی ہے کہ وہ آکسیجن کے اس بُلبلے کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنے خول کو توڑ کر باہر نکلے، باہر آکسیجن کا سمندر اس کے انتظار میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ اُس بُلبلے کو ہی زندگی سمجھ کر استعمال کرے اور خول کو توڑنے کی کوشش نہ کرتے تو پھر کچھ ہی لمحوں بعد وہ اندر ہی مر جاتا ہے۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب چوزہ خول کو اندر سے توڑ نہیں پاتا تو وہ بولتا اور فریاد کرتا ہے تو ماں باہر سے چونچ مار کر اُس خول کو توڑ دیتی ہے، اور یوں وہ آزاد دنیا میں آ جاتا ہے، مگر یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ چوزے کی آزادی کیلئے اُسکی پکار اور فریاد ضروری ہے۔
لہٰذا جو لوگ اِس دنیا کی زندگی ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنے گناہ اور نفس کے خول کی گرفت سے آزاد ہو جائیں گے، پھر انہیں آخرت میں دائمی زندگی مل جائے گی۔ یہاں ایک بات بہت دلچسپ ہے کہ اللّٰہ اپنے گناہ گار لوگوں سے بہت پیار کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ وہ اُس کے حضور گڑگڑا کے دُعا کریں۔ تاکہ وہ انہیں اُن کے گناہوں کے خولوں سے نکال کر ایمان افروز زندگی میں لے آئے، لیکن بات وہی ہے کہ گناہوں کے بخشش کیلئے اللّٰہ کو پکارنا اور دُعا کرنا ضروری ہے۔

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

 
 ( والد محترم کی شان میں)



اِک باپ بے سبب نہیں جنّت  میں جائے گا

وہ گھر کا بوجھ کاندھوں پہ اپنے اُٹھائے گا
اندر سے کِتنا ٹُوٹا ہے سب سے چُھپائے گا
اولاد کا وہ فرض مسلسل نِبھائے گا
اسکول اور مدرسہ ان کو بِھجائے گا
اَن پڑھ وہ خود ہے بچّوں کو لیکن پڑھائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

یُونہی نہیں چمن کو خزاں سے بَچائے گا
مالی ہے وہ جگر کا لَہو تک بَہائے گا
اندر کا کَرب اِس لئے سب سے چُھپائے گا
وہ ٹوٹ جائے گا تو یہ گھر ٹوٹ جائے گا
صدمے کئی ہیں اس کو مگر مُسکرائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

اَے وقت کنِھچ مَت تُو اَبھی عزم کی لگام
مخُتص ہیں سب مُصیبتیں اُس آدمی کے نام
اُس کے لئے تو ہو چکا آرام اب حرام
کیوں کے اسے جَہیز کا کرنا ہے اِنتظام
ہر حال میں وہ بیٹی کی شادی کرائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

قانون بیٹوں پر جو لگاتا ہے ایک باپ
پابند پہلے خود کو بناتا ہے ایک باپ
پڑتی ہیں اُس کی لاٹھیاں دِیوار و فَرش پَر
کتِنے ہُنر سے رُعب دِکھاتا ہے ایک باپ
گھر میں وہ فِکس وقت سے پہلے ہی آ ئے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

وہ کھیل اور تماشوں سے بِیزار ہو گیا
جب ذمّے داری آئی سمجھدار ہو گیا
گولی دوا بھی کھانے کو تیّار ہو گیا
چھٹّی کا دن تھا اِس لئے بیمار ہو گیا
کل وقت پر وہ ڈیوٹی اَپنی نِبھائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

کرنا ہے اُس کو فاقہ یہ سب سے چُھپا لیا
دانتوں میں اک خلال وہ اَپنے دَبا لیا
یہ دیکھا جب کہ کھانا پکا ہے بہت ہی کم
بولا کے ایک دوست کے گھر میں نے کھا لیا
یہ ایسا صبر ہے جو خدا کو بھی بھائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

آیت ہے والدین کی خدمت کیا کرو
اُن کی کسی بھی بات پہ اُف مَت کَہا کرو
کِس نے کہا جواب پلٹ کر دِیا کرو
بیٹو! وہ ایک باپ ہے لَب سِی لِیا کرو
قُربانیوں کو اُس کی کوئی چھو نہ پائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

محشر میں پُوچھا جائے گا کیا؟ جان جائے گی
بیٹی وَہاں پہ باپ کو پہچان جائے گی
دے گی گواہی ہاں یہی میرا کفیل ہے
قُدرت بھی اُس کا کہا مان جائے گی
دوزخ کی آگ سے اُسے خود رَب بچائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا


     میرا باپ میرا سب 

عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خونچکاں واقعہ

فر4 ہجری میں نجد کے سرداروں میں سے ایک سردار ابوبراء عامر بن مالک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ یہ شخص بنو عامر کے معزز لوگوں میں سے تھا۔ مگر قبیلے کی حقیقی قیادت اس کے بھتیجے عامر بن طفیل بن مالک کے ہاتھ میں تھی۔ آپؐ سے بڑے ادب و احترام سے پیش آیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس نے اسلام قبول کرنے کے بجائے کہا ’’آپ اپنے منتخب ساتھیوں کا ایک وفد میرے ساتھ بھیج دیں، تاکہ یہ اہلِ نجد کو اسلام کی دعوت پیش کریں اور لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں‘‘۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں اہلِ نجد کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں۔ میرے ساتھیوں کو وہاں خطرہ پیش آسکتا ہے‘‘۔ اس پر ابوبراء نے کہا ’’آپ اس کی فکر نہ کریں، یہ تمام لوگ میری امان میں ہوں گے‘‘۔ چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چیدہ چیدہ ساتھیوں کا ایک وفد ترتیب دیا، جو سب صاحب ِعلم اور نوجوان تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خدشہ تھا کہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہوجائے، مگر بعد میں انہوں نے ابوبراء کی یقین دہانی پر یہ وفد بھیج دیا۔ موت ان لوگوں کے انتظار میں تھی۔ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کو رخصت فرما رہے تھے۔ قضا و قدر کے اٹل فیصلے نافذ ہوکر رہتے ہیں، ان سے کوئی مفر نہیں، اس لیے بندۂ مومن کا قضا و قدر کے بارے میں ایمان اسے ہر مصیبت اور حادثے پر صبر و تسکین کی دولت عطا کرتا ہے۔ مدینہ سے اپنے پیارے ساتھیوں کو رخصت کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا منذر بن عمروؓ کو امیر مقرر فرمایا۔ وفد کے تمام لوگ قرآن کے حافظ اور عالم تھے۔ جب یہ لوگ بنو سلیم اور بنو عامر قبائل کے درمیان واقع بیئر معونہ کے چشمے پر پہنچے تو وہاں انہوں نے قیام کیا۔

گاوں میں لوگوں کی اکثریت کورونا وبا کی تباہ کاریوں سے لاپرواہ تھی

بہترین سنہری تحریریں

گاوں میں لوگوں کی اکثریت کورونا وبا کی تباہ کاریوں سے لاپرواہ تھی اور اسی لاپرواہی اور بے احتیاطی کو ایمان کی مضبوطی قرار دے رہی تھی۔میرے سارے دلائل بے کار گئے تو میں نے ایک کہاوت یا لطیفے کا سہارا لے کر ان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔قائل ہوے یا نہیں یہ تو پتہ نہیں چلا لیکن کچھ سوچ میں ضرور پڑ گئے۔
کہاوت کچھ یوں ہے کہ ایک گاوں میں سیلاب آگیا۔لوگ اونچے مقامات اور پہاڑوں کی طرف بھاگنے لگے۔لیکن گاوں کے ایک  صاحب میدان میں کھڑے ہوگئے۔اور بھاگنے سے انکار کرکے فرمانے لگے کہ میرا خدا مجھے بچا لےگا۔ایک کسان گھوڑا دوڑاتا ہوا آیا اور درخواست کی کہ حضور آئیں میرے پیچھے گھوڑے پر سوار ہوکر بھاگیں ورنہ ڈوب جائینگے. صاحب نے انکار کیا اور جلالی کیفیت میں ان کو ڈانٹ کر بھگا دیا کہ تم لوگوں کا اللہ پر عقیدہ نہیں ہے اس لئے بھاگ رہے ہو۔میرا اپنے اللہ پر عقیدہ ہے۔وہ مجھے ڈوبنے نہیں دیگا۔جب پانی اس کے گلے تک پہنچ گیا تو ایک آدمی کشتی لے کر آگیا اور عرض کیا کہ حضرت آئیں میرے ساتھ کشتی میں سوار ہوجائیں ورنہ ڈوب جائینگے۔پیر صاحب کے انکار پر وہ بھی مایوس ہو کر چلا گیا۔جب پانی ناک تک آگیا تو اتنے میں ایک سرکاری ہیلی کاپٹر نمودار ہوا اور فورا ہیلی کاپٹر سے رسی کی سیڑھیاں لٹکا کر  صاحب کو آواز دی گئی کہ سیڑھی پر چڑھ کر اوپر ہیلی کاپٹر میں آجائیں  صاحب نے پھر بھی انکارکیا۔ ہیلی کاپٹر والے بھی مایوس ہوکر چلے گئے۔ آخر کار پانی اور اونچا ہونے پر صاحب ڈوب کر مرگئے۔خدا کے سامنے پیش کئے گئے تو صاحب نے خدا سے بڑے گلے شکوے شروع کئے کہ میرا آپ پر کتنا بڑا بھروسہ تھا لیکن آپ نے مجھے پھر بھی سیلاب میں ڈبو دیا۔ اللہ نے جواب دیا کہ میں نے تو آپ کو بچانے کیلئے بڑی کوششیں کیں۔لیکن تم خود ہی ڈوب کر مرنے پر بضد تھے۔پہلے میں نے آپ کو بچانے کیلئے گھوڑا بجھوایا ۔آپ نہیں مانے۔پھر میں نے آپ کو بچانے کیلئے کشتی بجھوادی۔آپ پھر بھی نہیں مانے آخر میں  آپ کو بچانے کیلئے میں نے ایک ہیلی کاپٹر بھی بجھوایا۔لیکن آپ پھر بھی نہیں مانے۔ تو میں آپ کیلئے اور کیا کر سکتا تھا۔
کہاوت یا لطیفہ سنانے کے بعد میں نے لوگوں سے کہا کہ دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا ' احتیاطی تدابیر '  اور علاج سارے سنت ہیں۔یہ ڈاکٹر میرے اللہ نے پیدا کئے ہیں۔ ان کو یہ علم بھی میرے اللہ نے دیا ہے۔ان کی دوائیں اور ان کی بتائی جانے والی احتیاطیں بھی میرے اللہ نے ان کو سکھائی ہیں۔ورنہ انسان کے پاس تو اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔
علم الانسان بالقلم۔علم الانسان مالم یعلم (القرآن)
اس لئے کسی بھی بیماری سے بچنے کیلئے ڈاکٹروں کی طرف سے بتائی جانے والی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور بیمار ہونے پر ان کی تجویز کردہ دوائی کا استعمال عین شریعت کے مطابق یے۔

محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات:



تاریخ اسلام۔


محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات 


سلیمان بن عبدالملک پر سب سے بڑا الزام محمد بن قاسم کے معاملہ میں لگایا جاتا ہے، سلیمان کو اگر حجاج سے عداوت و دشمنی تھی تو اس دشمنی کو حجاج کے رشتہ داروں تک بلا وجہ وسیع نہیں ہونا چاہیئے تھا، لیکن افسوس ہے کہ سلیمان نے محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ کو بھی اسی طرح کشتنی و گردن زدنی سمجھا، جس طرح وہ حجاج کو سمجھتا تھا، محمد بن قاسم نہایت سمجھدار،  بہادر اور مستقل مزاج، نیک طینت اور جوان صالح تھا، اس نوجوان نے سندھ و ہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم و اسکندر سے بڑھ کر ثابت کیا تو دوسری طرف وہ نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل ورعایا پرور ظاہر ہوا تھا، اس نوجوان فتح مند سردار نے سلیمان کے خلاف قطعاً کوئی حرکت بھی نہیں کی تھی۔
حجاج کی وفات کے بعد بھی وہ اسی طرح فتوحات وملک داری میں مصروف رہا جیسا کہ حجاج کی زندگی میں تھا، اس کے پاس جس قدر فوج تھی، وہ سب کی سب دل و جان سے اس پر فدا اور اس کے ہر ایک حکم کی تعمیل کو بسر و چشم موجود تھی اور یہ بھی سب سے بڑی دلیل اس بات کی تھی کہ محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیت سپہ سالاری رکھتا تھا۔ 
ایسے نوجوان کی جس کی ابتداء ایسی عظیم الشان تھی، اگر تربیت کی جاتی اور اس سے کام لیا جاتا تو وہ سلیمان ابن عبدالملک کے لیے تمام بر اعظم ایشیا کو چین و جاپان تک فتح کر دیتا، لیکن سلیمان بن عبدالملک نے جذبہ عداوت سے مغلوب ہو کر یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا والی بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے بھیج دو، سلیمان کا یہ حکم درحقیقت تمام کارگزار و فتح مند سپہ سالاروں کو بد دل بنا دینے کا ایک زبردست اعلان تھا، کسی خلیفہ یا سلطان کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی قابل شرم بات نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے سرداروں کے عظیم الشان اور قابل تعریف کاموں کا صلہ بجائے تحسین و آفرین اور عزت افزائی کے قید و گرفتاری سے دے۔
یزید بن ابی کبشہ سندھ میں آکر زور و قوت کے ذریعہ محمد بن قاسم کو ہر گز ہر گز مغلوب نہیں کرسکتا تھا، محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہیوں کو جب خلیفہ کے اس نامعقول حکم کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے محمد بن قاسم سے کہا کہ تم اس حکم کی ہر گز تعمیل نہ کرو، ہم تم کو اپنا امیر جانتے اور تمہارے ہاتھ پر اطاعت کی بیعت کئے ہوئے ہیں، خلیفہ سلیمان کا ہاتھ ہر گز آپ تک نہیں پہنچ سکتا، حقیقت بھی یہ ہے کہ محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ کو مغلوب کرنے کے لیے خلیفہ سلیمان کو اپنی خلافت کا پورا زور لگانا پڑتا، کیوں کہ یہاں محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کی ہر دل عزیزی کے سبب ایسے ذرائع موجود تھے کہ سندھ کے ریگستان کا ہر ایک ذرہ اس کی اعانت و امداد کے لیے کوشاں ہوتا، مگر اس جوان صالح نے فوراً بلا توقف اپنے آپ کو ابن ابی کبشہ کے سپرد کر دیا اور کہا کہ خلیفہ وقت کے حکم کی نافرمانی کا جرم مجھ سے ہرگز سرزد نہ ہو گا۔
(کیا کہنے اس اطاعت امیر کے۔ محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ فی الواقع نہایت صالح، دور اندیش اور پاکیزہ فطرت کا حامل مسلم تھا۔)
چنانچہ محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالیٰ کو گرفتار کرنے کے بعد ابن ابی کبشہ نے دمشق کی جانب روانہ کر دیا، وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا اور صالح بن عبدالرحمان کو اس پر مسلط کر دیا، جس نے اس کو جیل خانے میں انواع و اقسام کی تکلیفیں دے دے کر مار ہی ڈالا۔
(یہ حادثہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا، یہ بہت بڑا المیہ تھا جو اس امت میں واقع ہوا اور اس سے خلافت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا

موسیٰ بن نصیرؒ کا انجام: 
موسیٰ بن نصیر کی نسبت اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ اس نے تمام شمالی افریقہ میں امن و امان قائم رکھا اور اندلس کی فتح کو تکمیل تک پہنچایا، موسیٰ کا باپ نصیر عبدالعزیز بن مروان بن حکم کا مولیٰ یعنی آزاد کردہ غلام تھا، جو خاندان مروان کا ایک فرد سمجھا جاتا تھا، اس بہادر سردار کے حوصلے کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ تمام بر اعظم یورپ کو صرف پندرہ بیس ہزار فوج سے فتح کر لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔
موسیٰ بن نصیر جب دارالخلافہ میں پہنچا تو اس کا قدرشناس خلیفہ ولید فوت ہو چکا تھا، سلیمان نے موسیٰ کے ساتھ بجائے اس کے کہ عزت و قدردانی کا برتاؤ کرتا، اس کو قید کر دیا اور اس قدر بھاری تاوان اس کے ذمہ عائد کیا، جو موسیٰ کی استطاعت سے باہر تھا، یہاں تک کہ موسیٰ کو تاوان کا روپیہ پورا کرنے کے لیے عرب سرداروں سے مانگ کر اپنی آبرو برباد کرنی پڑی اور اس کی تمام ناموری اور عزت وحرمت خاک میں مل گئی۔
ولید کے زمانے کے نامور سرداروں میں صرف مسلمہ بن عبدالملک سلیمان کی عنایت ریزیوں سے بچا رہا اور سلیمان نے اس کو بدستور اپنے عہدے اور مرتبہ پر قائم رکھا، مسلمہ سلیمان کا بھائی تھا اور 
اس کو ولی عہدی کے معاملہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ تھا، اس لیے سلیمان نے اس کو اپنے دشمنوں کی فہرست میں داخل نہیں کیا۔
یزید بن مہلب: 
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ حجاج مہلب کے بیٹوں سے ناراض تھا اور یزید بن مہلب کو مع اس کے بھائیوں کے قید کر دیا تھا، یزید بن مہلب جیل خانے سے بھاگ کر فلسطین میں سلیمان بن عبدالملک کے پاس چلا گیا، اس زمانہ میں سلیمان بن عبدالملک فلسطین کا گورنر تھا، یہ بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حجاج نے مرتے وقت اپنے بیٹے عبداللہ بن حجاج کو عراق میں اپنی جگہ عراق کا گورنر مقرر کیا تھا اور ولید بن عبدالملک نے اس تقرر کا جائز رکھا تھا، اب ولید کی وفات کے بعد جب سلیمان بن عبدالملک تخت خلافت پر بیٹھا تو اس نے سب سے پہلے حجاج کے بیٹے عبداللہ کو معزول کر کے اس کی جگہ یزید بن مہلب کو گورنر عراق مقرر کیا، یزید بن مہلب جانتا تھا کہ اگر لوگوں سے خراج کے وصول کرنے میں میں نے سختی کی تو حجاج کی طرح بدنام ہو جاؤں گا اور اگر رعایت و نرمی سے کام لیا تو سلیمان بن عبدالملک کی نگاہوں سے گر جاؤں گا، اس لیے اس نے یہ تدابیر اختیار کیں کہ سلیمان بن عبدالملک کو اس بات پر رضامند کیا کہ وہ عراق کی تحصیل خراج یعنی صیغہ مال کی افسری پر صالح بن عبدالرحمان کو مقرر کر دے اور باقی انتظامی و فوجی معاملات گورنر عراق یعنی یزید بن مہلب سے متعلق رہیں۔
یزید بن مہلب کی یہ خواہش سلیمان کو اس لیے بھی ناگوار نہ گزری کہ وہ جانتا تھا کہ حجاج نے یزید بن مہلب پر سرکاری روپیہ کے خورد برد کرنے کا الزام لگا کر قید کیا تھا، چنانچہ صالح بن عبدالرحمان صیغہ مال کی افسری پر مامور ہو کر اول عراق کی جانب بھیج دیا گیا، اس کے بعد یزید بن مہلب بھی عراق کا گورنر بن کر کوفہ میں وارد ہوا، یہاں یزید و صالح میں ناچاقی پیدا ہوئی اور یزید بن مہلب کے لیے صالح بن عبدالرحمان کا وجود باعث تکلیف ثابت ہونے لگا۔
اسی دوران میں خبر آئی کہ قتیبہ بن مسلم خراسان میں مارا گیا، یزید خراسان کی گورنری کو ترجیح دیتا تھا، کیوں کہ وہ اور اس کا باپ خراسان کا گورنر رہ چکے تھے، سلیمان بن عبدالملک نے یزید بن مہلب کی خواہش کے موافق اس کو خراسان کے صوبہ کی سند گورنری دے کر عراق کو بھی اسی کے ماتحت رکھا، یزید نے عراق کے اندر کوفہ و بصرہ و واسط وغیرہ میں اپنے جدا جدا نائب چھوڑ کر خود خراسان کا قصد کیا، خراسان میں پہنچ کر یزید بن مہلب نے اول قہتہان پر اس کے بعد جرجان پر چڑھائی کی اور یہاں کے باغی سرداروں سے جرمانہ و خراج وصول کر کے مصالحت کی،  اہل جرجان نے چند روز کے بعد پھر بغاوت کی، یزید نے چڑھائی کر کے چالیس ہزار ترکوں کو معرکہ جنگ میں قتل کیا اور شہر جرجان کا بنیادی پتھر اپنے ہاتھ رکھ کر وہاں جہم بن ذخر جعفی کو اپنی طرف سے حاکم مقرر کیا۔
اس سے پیشتر جرجان کسی شہر کا نام نہ تھا، بلکہ وہ ایک پہاڑی علاقہ تھا، جس میں چھوٹے چھوٹے بہت سے دیہات شامل تھے، یزید بن مہلب نے ایک شہر آباد کیا جس کا نام جرجان مشہور ہوا،  اس کے بعد طبرستان کو فتح کر کے اپنا عامل مقرر کیا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔ 

تاریخ اسلام۔ جلد ②، مولانا شاہ اکبر نجیب آبادی صاحب

دنیا کی خوش نصیب ترین بہن



میرے حضور ﷺ کی تو کوئی بہن نہیں تھی لیکن جب آپﷺ سیدہ حلیمہ سعدؓیہ کے پاس گئے تو وہاں حضورﷺ کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے جو آپﷺ کو لوریاں دیتی تھیں اس کا نام سیدہ شیؓما تھا ۔
شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہو جاتیں ،تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال یہ ہوتا کہ میرے بھائی سے زمانے میں زیادہ خوب صورت کوئی نہیں ۔کہتے ہیں خوب صورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے تو جس کے بھائی کا رنگ حسین ہوتا تو وہ کہتی رنگ نہیں تو کچھ بھی نہیں اور جس بہن کے بھائی کے نقوش اور خد و خال خوب صورت ہوتے وہ کہتی رنگ کیا ہے اصل خوبصورتی تو نقوش اور خد و خال کی ہے جس بہن کے بھائی کی آنکھیں خوبصورت ہوتیں وہ کہتی میرے ویر کی جھیل جیسی آنکھیں تو دیکھو ۔ 
اب بنوسعد کے محلے میں بچیاں اپنے بھائی اٹھاتیں ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں اور دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں 
اتنے میں سیدہ شیمؓا اپنا بھائی سیدنا محمد ﷺ اٹھا کے لے آتیں اور دور سے کہتی میرا بھائی بھی آ گیا ہے تو سب کے سر جھک جاتے اور کہتیں نہیں نہیں تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں آپ سے مقابلے کی بات تو نہیں کر رہے اور پھر جب کسی بہن کے بھائی کو سب متفقہ طور پر کہتیں کہ تیرا بھائی خوبصورت ہے تو اس کا فخر بھی تو دیدنی ہوگا اور اس کا ذوق آسمان کو چھونے لگتا 
ابن ہشام سیرت کی سب سے پہلی کتاب ہے اسی میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کو اپنی گود میں لے کے سمیٹتیں اور پھر جھومتیں اور پھر وہ لوری دیتیں  اور لوری کے الفاظ بھی لکھ دئے  ہیں جن کا ترجمہ ہے

اے ہمارے ربّ میرے بھائی محمد(ﷺ) کو سلامت رکھنا آج یہ پالنے میں بچوں کا سردار ہے کل وہ لمبے ہوئے جوانوں کا بھی سردار ہوگا اور پھر جھوم جاتیں ۔

ہوتے ہوتے وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور ﷺ مکے چلے گئے اور سیدہ شیمؓا بھی جوان ہوئی جن کی شادی بھی کسی قبیلے میں ہوگئی حضور ﷺ نے اعلان نبوت کیا تیرہ سال کا وقت بھی گزر گیا اور آپ ﷺ مدینہ شریف چلے گئے ۔ 
جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو جس قبیلے میں سیدہ شیمؓا کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ آ گیا اللہ رَبُّ العِزَّت نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قید کر دئے گئے تو یہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ جمع کرنے لگے اور قبیلے کے سردار ایک ایک گھر سے رقم جمع کر رہے ہیں ۔ 
چلتے چلتے یہ سیدہ شیمؓا کے گھر پہنچ گئے جو کہ اپنی عمر کا ایک خاص حصّہ گزار چکی تھیں اس سے کہنے لگے کہ اتنا حصّہ آپکا بھی آتا ہے ۔ 
سیدہ شیمؓا نے کہا 
کس لئے ؟ 
سردار اور ساتھ والے لوگوں نے کہا جو لڑائی ہوئی ہے اور اس میں ہمارے آدمی گرفتار ہوچکے ہیں باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام بھی  آ گیا تو سیدہ شیؓما سُن کر کہنے لگی اچھا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں کہا ہاں 
سیدہ شیمؓا نے کہا کہ تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو مجھے ساتھ لےچلو ۔ 
سردار نے کہا آپ کو ساتھ لے چلیں ؟  
سیدہ شیؓما کہنے لگیں ہاں تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی لگتا ہے ۔
قوم کے سرداروں کے ساتھ سیدہ شیؓما حضور ﷺ کے نوری خیموں کی طرف جا رہی ہیں اور صحابہ کرامؓ ننگی تلواروں سے پہرہ دے رہے ہیں  ،یہ مکی دور تو تھا نہیں مدنی دور تھا ۔ 
اور سیدہ شیمؓا قوم کے سرداروں کے آگے جب بڑھنے لگیں تو صحابہ ؓ نے تلواريں سونتیں اور پکارا
او دیہاتی عورت رُک جا دیکھتی نہیں آگے کوچہِ رسول ﷺ ہے آگے بغیر اذن کے جبریلؑ بھی نہیں جا سکتے تم کون ہو؟؟؟؟
تو سیدہ شیمؓا نے جواب میں جو الفاظ کہے ان کا اردو ترجمہ یہ ہے ۔ 
میری راہیں چھوڑ دو تم جانتے نہیں میں تمہارے نبی ﷺ کی بہن  لگتی ہوں ۔
تلواریں جھک گئیں آنکھوں پر پلکوں کی چلمنیں آ گئیں راستہ چھوڑ دیا گیا سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کے خیمہِ نوری میں داخل ہو گئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے ۔ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا ؟ 
کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں اُن کو چھڑانے آئی ہوں ۔ 
حضور ﷺ نے فرمایا بہن تم نے زحمت گوارا  کیوں کی ۔پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا لیکن تم آ گئیں اچھا ہوا ملاقات ہو گئی ۔
پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیؓما کو تحفے میں دیدیئے۔۔ کیونکہ بھائیوں کے دروازے پر جب بہنیں آتی ہیں تو بھائی خالی ہاتھ تو  بہنوں کو نہیں موڑا کرتے ۔ 
حضور ﷺ نے بہت کچھ عطا کیا اور رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ ؓ کی جماعت منتظر تھی 

فرمایا اے صحابہ ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ہے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دئیے۔۔۔  
آپ جو چاہیں کریں صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی ارشاد تو فرمائیں فرمایا میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں ۔

12 شعبان المعظم1441 ھِجْرِیْ​

السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

‏•┈•❀❁❀•┈•
12 شعبان المعظم1441 ھِجْرِیْ​
06 اپریل 2020 عِیسَوی
24 چیت 2077 بِکرمی​
بروز سوموار
‏•┈•❀❁❀•┈•
‏أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطٰنِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏•┈•❀❁❀•┈•
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ﴿۹﴾
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ﴿۱۰﴾
‏•┈•❀❁❀•┈•
 ترجمہ:
میں پناہ میں آتا ہوں اللّٰہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔
اللهﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.
‏•┈•❀❁❀•┈•
لفظی ترجمہ:
وَعَدَ(اور وعدہ کیا) اللّٰہُ(ﷲ نے) الَّذِیۡنَ(ان لوگوں سے جو) اٰمَنُوۡا(ایمان لائے) وَ(اور) عَمِلُوا(کام کئے) الصّٰلِحٰتِ(اچھے) ۙ لَہُمۡ(واسطے ان کے) مَّغۡفِرَۃٌ(بخشش ہے) وَّ(اور) اَجۡرٌ(ثواب) عَظِیۡمٌ(بڑا) ﴿۹﴾
وَ الَّذِیۡنَ(اور جو لوگ کہ) کَفَرُوۡا(کافر ہوئے) وَ کَذَّبُوۡا(اور جھٹلایا) بِاٰیٰتِنَاۤ(نشانیوں ہماری کو) اُولٰٓئِکَ(یہ لوگ) اَصۡحٰبُ(رہنے والے ہیں) الۡجَحِیۡمِ(دوزخ میں) ﴿۱۰﴾
‏•┈•❀❁❀•┈•
مفہوم:
ﷲ نے ایسے لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وعدہ فرمایا ہے (کہ) ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے. اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ (میں جلنے) والے ہیں.
‏•┈•❀❁❀•┈•
المائدہ: 09-10
‏•┈•❀❁❀•┈•

سو الفاظ کی کہانی #کیمرہ

مجھے کیمرا خریدنا تھا۔ میں کیمروں والی دکان پر چلا گیا۔ دکان میں کئی قسم کی کیمرے تھے۔ کچھ بڑے تھے، کچھ چھوٹے تھے، کچھ سادہ تھے، کچھ بہت خوبصورت تھے، کچھ سستے تھے جبکہ کچھ کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ مختلف کمپنیوں اور برانڈز کے کیمرے میرے سامنے تھے۔ ایک کیمرہ سب سے الگ رکھا تھا۔ مجھے وہی پسند آیا۔ میں نے دکاندار سے قیمت پوچھی تو اس نے کہا: "آپ اسے نہیں خرید سکتے۔ یہ آپ کے لئے نہیں ہے۔" "پھر کس کے لیے ہے؟" "یہ امیروں کا کیمرہ ہے۔ غریبوں سے سفید پوشی کی چادر اتارتا ہے۔" Copied Form .......سیف الرحمن ادیؔب

تم جِس کی خاطر جَنگ میں کُودو گے ـ اُسی کے ہاتھوں مارے جَاؤ گے ـ!

ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﻮﮞ ﺟﻮ ﺑﯿﻮﮎ ﺍﺩﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﯾﺎ ﺍﭨﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭙﯿﻦ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺑالکل ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺎﮈﻟﺰ ﭘﮩﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﮨﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﯾﻤﭗ ﭘﮧ ﭼﻠﺘﯽ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﺳﻤﺎﺭﭦ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻨﮉﯼ ﮈﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﮧ ﭼﻠﻮﮞ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺴﻮﺭ ﻭ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ — ﻭﮦ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺭﮐﯽ، ﺣﯿﺎ ﺑﻨﺎ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﮯ ، ﺳﺎﻧﺲ ﺭﻭﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ “ ﻟﯿﮑﻦ … ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ، ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺳﻮﺭﺝ ﻣﻐﺮﺏ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﯾﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻻﻝ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﮨﺮ ﺳﻮ ﭼﻠﮯ ﮔﯽ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ۔ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺳﭩﯿﮉﯾﻤﺰ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﺍﺳﮑﺮﯾﻨﺰ ﻧﺼﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﭩﯿﮉﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻭﺳﻂ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ۔ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﭘﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺣﯿﺎ، ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﺎ ﻃﻮﻟﯿﮧ ﮐﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﮔﻞ، ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺅ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ‘ ﮐﯿﺎ؟ ﯾﮧ ﺑﺎﻝ ‘ ﯾﮧ ﭼﮩﺮﺍ ‘ ﯾﮧ ﺟﺴﻢ ‘ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ - ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ؟ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺌﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ؟ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺳﺘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺗﮭﺎ؟ ” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻮﭼﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ 🥀 ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ حجاب ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﮑﺶ ﺳﺮﺍﭘﮯ ﮔﺮﺩﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭼﻦ ﻟﻮﮞ، ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺁﺧﺮﯼ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ؟ ⚖ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍﺯﻭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻠﮍﮮ میں ﺍﭘﻨﺎ ﻭﮦ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌٰﺎﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺎ ﭘﻠﮍﺍ اللہ کی مرضی کے مطابق ﺟﮭﮑﺘﺎ ہے۔ Copied From عائشے گل...

Wednesday, March 18, 2020

how to signup fiverr



Step-1
Click “Join” through the Fiverr homepage.

Step-2
Put a valid email address and click “Continue”.

Important Note: You can also sign up through your Facebook or Google Connect accounts but it’s not a preferable approach.



Step-3
Choose a valid Username and set up your strong password and click “Join”.

Remember: Your Username is 15 characters long and can’t contain special characters.

Important Note: Once a Username is selected it can’t be changed ever until you delete your existing profile, so take your time in choosing a wise Username. Prefer using your real name as a Fiverr Username, if not available then suggest using one which best describes your niche. For example, if you want to sell graphics services then you should use Usernames like “Graphic Creations”, “Graphics Ideas”, etc. Learn more to Change the Fiverr Username

Step-4
Now, you’re a registered Fiverr user. Fiverr sends you a confirmation mail at your provided email address. Click “Activate Your Account”  and you’re all done with the Fiverr sign up.

Important Note: This confirmation email will be valid for 30 days. If you sign up after 30 days, click Resend and you will get another email active for verifications for the next 30 days.


#اسے گمنامی سے نفرت تھی

 دنیا خوفزدہ ہو گئی
ایئر پورٹ ویران ،ہوٹل ویران ،کسینو ویران
جوئے خانے ویران ،شادی ہال ویران ،سینما گھر ویران ،بازار ویران
دوکانیں ویران ،گہما گہمیاں ختم گئیں ،رونقیں برباد ہو گئیں
تعلیمی ادارے دنیا بھر میں بند ،محفلیں ختم ،سمندر کے کنارے ننگے لوگوں سے ویران' زنا کے اڈے ویران ،شراب خانے ویران ،لوگ نوٹوں سے بھی ڈرنے لگے
امریکا نے یورپ سے آنے والوں کو روک دیا ،پوری دنیا نے منہ چھپا لیئے
جو کہتے تھے نقاب عورت کو قید کرنا ہے سب بے نقابوں نے
نقاب پہن لیئے ،پپیاں جپھیاں ختم ،چمیاں انگریزوں نے ختم کردیں ،کھانسنے والا خود کش لگنے لگا ،دمے والا ایٹم بم ،
ہر بندہ دوسرے سے خوف زدہ ہو گيا ،دنیا کی ترقی وڑ گئی جہاں سے نکلی تھی
سائنس وڑ گئی ،میڈیکل سائنس زمین بوس ہو گئی ،دوائياں  راکھ بن گئیں
انجیکشن بے اثر ہو گئے ،موت کے سائے منڈلانے لگے ،چند دنوں میں
خوف نے پوری…
: وائرس میں گھرا پاکستان اور کرونا
پاپ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن جس کے گانوں سے کئی شوقین مزاج لوگوں کی پلے لسٹ بھری ہوتی ہے۔ایک ایسا انسان تھا جو نظام فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا ،اسے چار چیزوں سے سخت نفرت تھی۔
#اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی ۔
#اسے گمنامی سے نفرت تھی
#اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی
#اسے عام لوگوں کی طرح ستر ،اسی برس میں مر جانے سے  نفرت تھی وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔وہ ایک ایسا گلوکار بننا چاہتا تھا جو ایک سو پچاس سال کی عمر میں لاکھوں لوگوں کے سامنے ڈانس کرے اور کڑروں مداحین کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
مائیکل جیکسن کی زندگی ان چار خواہشوں کی تکمیل میں گزری۔
اس نے 1982 میں اپنا دوسرا البم "تھرلر "لانچ کیا۔یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ایک ماہ میں اس البم کی ساڑھ چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی۔اور یہ گینز بک آف  ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا۔مائیکل جیکسن  دنیا کا مشہور گلوکار بن گیا اس نے گمنامی کو شکست دے دی۔
مائیکل نے اس کے بعد اپنی سیاہ رنگت دینے کا فیصلہ کیا اور پلاسٹک سرجری شروع کروادی1987 تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل و صورت،جلد نقوش بدل گئے اور اس نے اپنی سیاہ رنگت کو شکت دے دی۔
اس نے اپنے ماضی کو ختم کرنے کے لیے اپنے پرانے دوستوں اور خاندان سے قطعے تعلق کر لیا اور خود کو مشہور کرنے کے لیے ایلوس پریسلے کی بیٹی "لیزا میری پریسلے سے شادی کر لی لہذا اس نے ماضی سے بھی  چھٹکارا حاصل کر لیا۔
اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا۔وہ جراثیم وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کے لئے دستانے پہن کر لوگوں سے ملتا تھا وہ لوگوں میں جانے سے پہلے ماسک چڑھا لیتا تھا اس نے مستقل بارہ ڈاکڑ رکھے ہوئے تھے جو روزانہ اس کی خوراک اور جسم کا معائنہ کرتے۔اسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا۔
لیکن پھر 25 جون کی رات آئی اسے سانس لینے کی دشواری پیش آئی ڈاکٹرز کی بھر پور کوشش کے باوجود وہ اسے نہ بچا سکے۔
وہ شخص جس  نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا۔جس کے گھر میں دن میں چار دفعہ جراثیم کش اسپرے کیے جاتے وہ شخص پچاس سال کی عمر میں تیس منٹ کے اندر انتقال کر گیا۔
اب آتے ہیں کرونا وائرس کی طرف
کورنا وائرس کو لے کر یہ میری پہلی تحریر ہے جو اب تک گوگل سے لی گئی معلومات پر انحصار کرتی ہے۔اس وائرس سے اموات اب تک 2 فی صد بتائی جا رہی ہے لیکن اس کے متعلق خوف وہراس ایسے پھیلایا جا رہا ہے جیسے یہ قیامت ہو۔
اگر پاکستان میں کرونا وائرس کے کیس سامنے آیا ہے تو شور مچانے اور لوگوں کے اندر خوف پیدا کرنے سے الٹا لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اور اس وائرس کو اگر سارے پاکستانیوں میں انجیکٹ کیا جائے تو بھی اموات کی شرح صفر یا ایک فی صد سے اوپر نہیں جائے گی۔
اگر لوگوں میں خوف ہراس پھیلا رہے ہیں تو ہم ملک کی معیشت کو مزید کمزور کر یں گے۔یہ ایک بائیو ویپن ہے جس کے ذریعے ملکی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔بارڈر  بند ہونے کی وجہ سے تمام ممالک کی معیشت تباہ ہو گئی ۔چائنا ایک ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے جس کی معیشت کو کافی نقصان ہوا۔اب اگر یہی صورت حال  پاکستان میں بنائی جائے تو ہماری معیشت مزید کمزور ہو گی۔اور ہم قوم بھی اتنی غیرت مند ہیں کہ فیس ماسک کی  قیمتیں دس گناہ بڑھا دی ہے۔یہ ہے ہم لوگوں میں احساس ۔
اصل میں ہم لوگوں پر آزمائش آتی ہے اور اسے عذاب ہم خود بناتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے لوگوں کا دماغ  خراب کیا ہوا ہےاور لوگوں کو دہشت زدہ کیا جارہا ہے۔ہر چینل کریڈٹ لینے کے چکر میں سنسی پھیلا رہا ہے۔
ہمیں وائرس سے نہیں خود سے خطرات لاحق ہیں۔کیا تباہ ہونے کے لیے کسی وائرس کی ضرورت ہے۔خدارا اس وائرس کو خود پر مسلط نہ ہونے دیں۔اس جہاں سے مائیگریشن تک بھر پور جیئں۔کیونکہ موت نے اپنے مقرر وقت پہ لازمی آنی ہے چاہے بہانہ کسی وائرس کا ہو یا جنگ کا۔
اللّٰہ پاک پاکستان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور انسانیت کو انسانوں سے لاحق خطرات سے محفوظ رکھے آمین
میرا یہ ایمان ہے وائرس بھی ایک اللّٰہ کی مخلوق ہےاور اس کے حکم کی پابند ہےاور اسی کے حکم سے پھیل رہا ہے۔اور اسی کے حکم سے علاج بھی دریافت ہو گا
غور کرنے کی بات ہے کرونا وائرس سے متاثرہ100 افراد میں سے 2.5 لوگ فوت ہوئے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق تو جب دنیا میں اسکا علاج ہی ممکن نہیں تو باقی کے 97.5 لوگوں کو صحت کون دے رہا ہے ۔ہم الحمدللّٰہ مسلمان ہیں اور ہمیں اللّٰہ پر بھروسہ ہونا چاہیے اور اسی سے مدد مانگیں ۔پانچ وقت نماز کی پابندی کریں اور اللّٰہ پاک سے ڈریں ۔کوئی بھی وائرس آپ تک نہیں آے گا
زندگی بہت تھوڑی ہے اس کو بامقصد بنائیں۔⁦❤⁩
شکریہ۔زcopied

Tuesday, March 10, 2020

IQBAL (OUR HERO)

اٹھا کے پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

میاں نجّار بھی چھیلے گئے ساتھ

نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے

Wednesday, February 26, 2020

🌺 بھائی کی پسند کا خیال !

! بھائی کی پسند کا خیال 

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔

  📗«صحیح بخاری -13»

بھوکے کو فلسفہ نہیں روٹی چاہیے

"بھوکے کو فلسفہ نہیں روٹی چاہیے"

 مرنے سے پہلے میں نے اسے خودکشی سے بہت روکا۔ 

اس نے کہا! کھانا لائے ہو؟ میں نے کہا کہ زندگی سے ہارنا بزدلی ہے۔ اس نے کہا! میرے بچے کئی روز کے بھوکے ہیں۔ میں نے کہا روٹی کا ضامن اللہ ہے۔  میں نے کہا وہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ اس نے کہا!کیا بھوکوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے؟ میں نے کہا! زندگی بہت خوبصورت ہے۔ اس نے کہا! جب بھوکے بچوں کی چیخیں سماعتوں سے ٹکراتی رہیں تو زندگی بدصورت بن جاتی ہے۔ میں نے اسے کہا دیکھو! خودکشی حرام ہے۔ اس نے کہا! جب زندگی حرام ہوجائے تو خودکشی حلال ہوجاتی ہے۔ اور وہ لٹک گئی۔۔ 

عین اسوقت مجھے مارکس کی کہاوت یاد آئی کہ 

"جب پیٹ خالی ہو تو زندگی کا کوئی فلسفہ اثر نہیں کرتا۔"

 کسی بھوکے کی طرف کسی نے روٹی والا ہاتھ بڑہایا تو اس بھوکے نے کہا 

تھا کہ کیا تم خدا ہو؟!...

ہمیں کچھ غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔

Third Year CIT - IInd Annual 2011 by M Shumraiz Sharif

Third Year CIT - IInd Annual 2011 by M Shumraiz Sharif on Scribd

Building-a-5-Volt-Power-Supply

Building a 5 Volt Power Supply by M Shumraiz Sharif on Scribd

Broadband Troubleshooting by M Shumraiz Sharif

Read it

Bash-Commands by M Shumraiz Sharif

Bash Commands by M Shumraiz Sharif on Scribd

Muhammad Shumraiz Sharif

DAE (C.I.T )CCNA (PUCIT)BSIT (VU PAKISTAN)

Instructor at ABBAS COLLEGE OF TECHNOLOGY 


Founder at "MEGA SOLUTIONS GROUP"


Counsel Developer at "Pak Watan Destinations" 

Tuesday, January 28, 2020

تم نے ناطہٴ دل کا تعلق قرآن سے ترک جب کیا ہے

آ بتاوٴں تجھے کہ تری بربادیوں کا سبب کیا ہے
پہلے کیا ہوتا تھا تو اور دیکھ اب کیا ہے

تم نے ناطہٴ دل کا تعلق قرآن سے ترک جب کیا ہے
پھر تجھے اپنی ہی کی ہوئی تباہی پہ تعجب کیا ہے

جو دین و ملت نے اگر تم سے کچھ لہُو طلب کیا ہے
تم کیا جانو کہ تڑپتی ہوئی ملت کا کرب کیا ہے

کبھی ہو اکرتی تھیں ترے ہاتھوں میں ہواوٴں کی لگامیں
دست غیر میں آئی تمہاری لگام، ترک دستور تلوار جب کیا ہے


 حسبنا الله ونعم الوكيل

Tuesday, January 21, 2020

کسی کو یہ کہنے کی نوبت نہ آنے دینا..

کسی کو یہ کہنے کی نوبت  نہ آنے دینا کہ !
وافوض امری الی اللہ "
میں اپنا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش کرتا ہوں .
یاد رکھنا !
کسی کے یہ کہنے سے پہلے معاملہ سلجھا لینا کیونکہ اس کے ہاں نہ جج بکتے ہیں نہ ہی گواہ خریدے جاسکتے ہیں اور نہ ہی وکیل 
کیونکہ ! وہ خود ہی گواہ ، خود ہی وکیل ، اور خود ہی جج ہے 
اس کے فیصلے پھر ٹلتے نہیں ۔
وہاں ترازو بھی انصاف کے تلتے ہیں۔
اللہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے💓

Tuesday, January 7, 2020

حضرت علیؓ کے گھر میں سب نے روزہ رکھا...

حضرت علیؓ کے گھر میں سب نے روزہ رکھا۔حضرت فاطمہؓ کے دو چھوٹے بچے انھوں نے بھی روزہ رکھا۔مغرب کا وقت ہونے والا ہے ۔اور سب کے سب مصلہ بچھاٸے رو۔رو کر دعا مانگتے ہیں۔حضرت فاطمہؓ دعا ختم کرکے گھر میں گٸ اور چار روٹی بناٸ,اس سے زیادہ اناج گھر میں نہیں ہے۔ پہلی روٹی اپنے شوہر علیؓ کے سامنے رکھ دی۔ دوسری روٹی اپنے بڑے بیٹے حسنؓ کے سامنے ۔  تیسری روٹی اپنے چھوٹے بیٹے حسینؓ کے سامنے ۔ اور چوتھی روٹی اپنے سامنے رکھ لی۔ مسجد۔نبوی میں اذان ہونے لگی۔سب نے روٹی سے روزہ کھولا۔مگر دوستوں ۔وہ فاطمہؓ تھی جس نے آدھی روٹی کھاٸ اور آدھی روٹی دوپٹے سے باندھنے لگی۔ یہ معاملہ حضرت علیؓ نے دیکھا اور کہا کہ اے فاطمہؓ تجھے بھوک نہیں لگی , ایک ہی تو روٹی ہے اُس میں سےآدھی روٹی دوپٹے میں باندھ رہی ہو؟؟؟
فاطمہؓ نے کہا!! اے علیؓ ہو سکتا ہے میرے بابا جان (مُحَمَّد)کو افطاری میں کچھ نہ ملا ہو, وہ بیٹی کیسے کھاٸےگی جس کے باپ نے کچھ نہیں کھایا ہوگا؟؟
فاطمہؓ دوپٹے میں روٹی باندھ کر چل پڑی
 اُدھر ہمارے نبیﷺ مغرب کی نماز پڑھ کر آرہے تھے
حضرت فاطمہؓ کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر حضور  کہتے ہے۔ اے فاطمہؓ تم دروازے پر کیسے ، فاطمہؓ نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ مجھے اندر تو لے چلیں۔
حضرت فاطمہؓ کی آنکھ میں آنسو تھے۔ کہا جب افطار کی روٹی کھاٸ تو آپ کی یاد آگٸ کہ  شاٸد آپ نے کھایا نہ ہو۔ اسلٸے آدھی روٹی دوپٹے سے باندھ کر لے آٸ ہو، روٹی دیکھ کر ہمارے نبیﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگٸے اور کہا اے فاطمہؓ اچھا کیا جو روٹی لے آٸ ورنہ چوتھی رات بھی تیرے بابا کی اسی حالت میں نکل جاتی ! دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے رونے لگتے ہیں۔۔ اللہ کے رسولﷺ نے روٹی مانگی ، فاطمہؓ نے کہا بابا جان آج اپنے ہاتھوں سے روٹی کھلاٶں گی پھر  اپنے ہاتھ  سے کھلانے لگی! روٹی ختم ہوگٸ اور حضرت فاطمہؓ رونے لگتی ہیں۔ حضور ﷺ نے دیکھا اور کہا کہ فاطمہ اب کیوں روتی ہو؟؟  کہا ابا جان کل کیا ہوگا ؟؟ کل کون کھلانے آٸے گا ؟؟
کل کیا میرے گھر میں چولھا جلے گا؟؟
کل کیا آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟؟
نبیﷺ نے اپنا پیارا ہاتھ فاطمہؓ کے سر پہ رکھا اور کہا کہ اے فاطمہؓ تو بھی صبر کرلے اور میں بھی صبر کرتا ہو۔۔ ہمارے صبر سے اللہ اُمت کے گنہگاروں کا گناہ معاف کرے گا!! الله أكبر۔۔
یہ ہوتی ہیں محبت جو نبی کو ہم سے تھی، اُمت سے تھی ۔۔ یہ گنہگار اُمتی ہم ہی ہیں۔ جن کے لٸے نبی بھوکے رہے ، نبی کی بیٹی بھوکی رہی!! 
اور ہم لوگ کیا کررہے ہیں اُن کے لٸے کل قیامت کے دن میں ۔اور ۔ آپ سب لوگ کیا جواب دینگے !