Monday, April 6, 2020

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

 
 ( والد محترم کی شان میں)



اِک باپ بے سبب نہیں جنّت  میں جائے گا

وہ گھر کا بوجھ کاندھوں پہ اپنے اُٹھائے گا
اندر سے کِتنا ٹُوٹا ہے سب سے چُھپائے گا
اولاد کا وہ فرض مسلسل نِبھائے گا
اسکول اور مدرسہ ان کو بِھجائے گا
اَن پڑھ وہ خود ہے بچّوں کو لیکن پڑھائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

یُونہی نہیں چمن کو خزاں سے بَچائے گا
مالی ہے وہ جگر کا لَہو تک بَہائے گا
اندر کا کَرب اِس لئے سب سے چُھپائے گا
وہ ٹوٹ جائے گا تو یہ گھر ٹوٹ جائے گا
صدمے کئی ہیں اس کو مگر مُسکرائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

اَے وقت کنِھچ مَت تُو اَبھی عزم کی لگام
مخُتص ہیں سب مُصیبتیں اُس آدمی کے نام
اُس کے لئے تو ہو چکا آرام اب حرام
کیوں کے اسے جَہیز کا کرنا ہے اِنتظام
ہر حال میں وہ بیٹی کی شادی کرائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

قانون بیٹوں پر جو لگاتا ہے ایک باپ
پابند پہلے خود کو بناتا ہے ایک باپ
پڑتی ہیں اُس کی لاٹھیاں دِیوار و فَرش پَر
کتِنے ہُنر سے رُعب دِکھاتا ہے ایک باپ
گھر میں وہ فِکس وقت سے پہلے ہی آ ئے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

وہ کھیل اور تماشوں سے بِیزار ہو گیا
جب ذمّے داری آئی سمجھدار ہو گیا
گولی دوا بھی کھانے کو تیّار ہو گیا
چھٹّی کا دن تھا اِس لئے بیمار ہو گیا
کل وقت پر وہ ڈیوٹی اَپنی نِبھائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

کرنا ہے اُس کو فاقہ یہ سب سے چُھپا لیا
دانتوں میں اک خلال وہ اَپنے دَبا لیا
یہ دیکھا جب کہ کھانا پکا ہے بہت ہی کم
بولا کے ایک دوست کے گھر میں نے کھا لیا
یہ ایسا صبر ہے جو خدا کو بھی بھائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

آیت ہے والدین کی خدمت کیا کرو
اُن کی کسی بھی بات پہ اُف مَت کَہا کرو
کِس نے کہا جواب پلٹ کر دِیا کرو
بیٹو! وہ ایک باپ ہے لَب سِی لِیا کرو
قُربانیوں کو اُس کی کوئی چھو نہ پائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا

محشر میں پُوچھا جائے گا کیا؟ جان جائے گی
بیٹی وَہاں پہ باپ کو پہچان جائے گی
دے گی گواہی ہاں یہی میرا کفیل ہے
قُدرت بھی اُس کا کہا مان جائے گی
دوزخ کی آگ سے اُسے خود رَب بچائے گا

اِک باپ بے سبب نہیں جنّت میں جائے گا


     میرا باپ میرا سب 

No comments:

Post a Comment