Monday, April 6, 2020


عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خونچکاں واقعہ

فر4 ہجری میں نجد کے سرداروں میں سے ایک سردار ابوبراء عامر بن مالک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ یہ شخص بنو عامر کے معزز لوگوں میں سے تھا۔ مگر قبیلے کی حقیقی قیادت اس کے بھتیجے عامر بن طفیل بن مالک کے ہاتھ میں تھی۔ آپؐ سے بڑے ادب و احترام سے پیش آیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس نے اسلام قبول کرنے کے بجائے کہا ’’آپ اپنے منتخب ساتھیوں کا ایک وفد میرے ساتھ بھیج دیں، تاکہ یہ اہلِ نجد کو اسلام کی دعوت پیش کریں اور لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں‘‘۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں اہلِ نجد کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں۔ میرے ساتھیوں کو وہاں خطرہ پیش آسکتا ہے‘‘۔ اس پر ابوبراء نے کہا ’’آپ اس کی فکر نہ کریں، یہ تمام لوگ میری امان میں ہوں گے‘‘۔ چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چیدہ چیدہ ساتھیوں کا ایک وفد ترتیب دیا، جو سب صاحب ِعلم اور نوجوان تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خدشہ تھا کہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہوجائے، مگر بعد میں انہوں نے ابوبراء کی یقین دہانی پر یہ وفد بھیج دیا۔ موت ان لوگوں کے انتظار میں تھی۔ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کو رخصت فرما رہے تھے۔ قضا و قدر کے اٹل فیصلے نافذ ہوکر رہتے ہیں، ان سے کوئی مفر نہیں، اس لیے بندۂ مومن کا قضا و قدر کے بارے میں ایمان اسے ہر مصیبت اور حادثے پر صبر و تسکین کی دولت عطا کرتا ہے۔ مدینہ سے اپنے پیارے ساتھیوں کو رخصت کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا منذر بن عمروؓ کو امیر مقرر فرمایا۔ وفد کے تمام لوگ قرآن کے حافظ اور عالم تھے۔ جب یہ لوگ بنو سلیم اور بنو عامر قبائل کے درمیان واقع بیئر معونہ کے چشمے پر پہنچے تو وہاں انہوں نے قیام کیا۔

No comments:

Post a Comment