Thursday, March 19, 2020
Wednesday, March 18, 2020
how to signup fiverr
Step-1
Click “Join” through the Fiverr homepage.
Step-2
Put a valid email address and click “Continue”.
Important Note: You can also sign up through your Facebook
or Google Connect accounts but it’s not a preferable approach.
Step-3
Choose a valid Username and set up your strong password and
click “Join”.
Remember: Your Username is 15 characters long and can’t
contain special characters.
Important Note: Once a Username is selected it can’t be
changed ever until you delete your existing profile, so take your time in
choosing a wise Username. Prefer using your real name as a Fiverr Username, if
not available then suggest using one which best describes your niche. For
example, if you want to sell graphics services then you should use Usernames
like “Graphic Creations”, “Graphics Ideas”, etc. Learn more to Change the
Fiverr Username
Step-4
Now, you’re a registered Fiverr user. Fiverr sends you a
confirmation mail at your provided email address. Click “Activate Your
Account” and you’re all done with the
Fiverr sign up.
Important Note: This confirmation email will be valid for 30
days. If you sign up after 30 days, click Resend and you will get another email
active for verifications for the next 30 days.
#اسے گمنامی سے نفرت تھی
دنیا خوفزدہ ہو گئی
ایئر پورٹ ویران ،ہوٹل ویران ،کسینو ویران
جوئے خانے ویران ،شادی ہال ویران ،سینما گھر ویران ،بازار ویران
دوکانیں ویران ،گہما گہمیاں ختم گئیں ،رونقیں برباد ہو گئیں
تعلیمی ادارے دنیا بھر میں بند ،محفلیں ختم ،سمندر کے کنارے ننگے لوگوں سے ویران' زنا کے اڈے ویران ،شراب خانے ویران ،لوگ نوٹوں سے بھی ڈرنے لگے
امریکا نے یورپ سے آنے والوں کو روک دیا ،پوری دنیا نے منہ چھپا لیئے
جو کہتے تھے نقاب عورت کو قید کرنا ہے سب بے نقابوں نے
نقاب پہن لیئے ،پپیاں جپھیاں ختم ،چمیاں انگریزوں نے ختم کردیں ،کھانسنے والا خود کش لگنے لگا ،دمے والا ایٹم بم ،
ہر بندہ دوسرے سے خوف زدہ ہو گيا ،دنیا کی ترقی وڑ گئی جہاں سے نکلی تھی
سائنس وڑ گئی ،میڈیکل سائنس زمین بوس ہو گئی ،دوائياں راکھ بن گئیں
انجیکشن بے اثر ہو گئے ،موت کے سائے منڈلانے لگے ،چند دنوں میں
خوف نے پوری…
: وائرس میں گھرا پاکستان اور کرونا
پاپ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن جس کے گانوں سے کئی شوقین مزاج لوگوں کی پلے لسٹ بھری ہوتی ہے۔ایک ایسا انسان تھا جو نظام فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا ،اسے چار چیزوں سے سخت نفرت تھی۔
#اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی ۔
#اسے گمنامی سے نفرت تھی
#اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی
#اسے عام لوگوں کی طرح ستر ،اسی برس میں مر جانے سے نفرت تھی وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔وہ ایک ایسا گلوکار بننا چاہتا تھا جو ایک سو پچاس سال کی عمر میں لاکھوں لوگوں کے سامنے ڈانس کرے اور کڑروں مداحین کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
مائیکل جیکسن کی زندگی ان چار خواہشوں کی تکمیل میں گزری۔
اس نے 1982 میں اپنا دوسرا البم "تھرلر "لانچ کیا۔یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ایک ماہ میں اس البم کی ساڑھ چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی۔اور یہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا۔مائیکل جیکسن دنیا کا مشہور گلوکار بن گیا اس نے گمنامی کو شکست دے دی۔
مائیکل نے اس کے بعد اپنی سیاہ رنگت دینے کا فیصلہ کیا اور پلاسٹک سرجری شروع کروادی1987 تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل و صورت،جلد نقوش بدل گئے اور اس نے اپنی سیاہ رنگت کو شکت دے دی۔
اس نے اپنے ماضی کو ختم کرنے کے لیے اپنے پرانے دوستوں اور خاندان سے قطعے تعلق کر لیا اور خود کو مشہور کرنے کے لیے ایلوس پریسلے کی بیٹی "لیزا میری پریسلے سے شادی کر لی لہذا اس نے ماضی سے بھی چھٹکارا حاصل کر لیا۔
اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا۔وہ جراثیم وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کے لئے دستانے پہن کر لوگوں سے ملتا تھا وہ لوگوں میں جانے سے پہلے ماسک چڑھا لیتا تھا اس نے مستقل بارہ ڈاکڑ رکھے ہوئے تھے جو روزانہ اس کی خوراک اور جسم کا معائنہ کرتے۔اسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا۔
لیکن پھر 25 جون کی رات آئی اسے سانس لینے کی دشواری پیش آئی ڈاکٹرز کی بھر پور کوشش کے باوجود وہ اسے نہ بچا سکے۔
وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا۔جس کے گھر میں دن میں چار دفعہ جراثیم کش اسپرے کیے جاتے وہ شخص پچاس سال کی عمر میں تیس منٹ کے اندر انتقال کر گیا۔
اب آتے ہیں کرونا وائرس کی طرف
کورنا وائرس کو لے کر یہ میری پہلی تحریر ہے جو اب تک گوگل سے لی گئی معلومات پر انحصار کرتی ہے۔اس وائرس سے اموات اب تک 2 فی صد بتائی جا رہی ہے لیکن اس کے متعلق خوف وہراس ایسے پھیلایا جا رہا ہے جیسے یہ قیامت ہو۔
اگر پاکستان میں کرونا وائرس کے کیس سامنے آیا ہے تو شور مچانے اور لوگوں کے اندر خوف پیدا کرنے سے الٹا لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اور اس وائرس کو اگر سارے پاکستانیوں میں انجیکٹ کیا جائے تو بھی اموات کی شرح صفر یا ایک فی صد سے اوپر نہیں جائے گی۔
اگر لوگوں میں خوف ہراس پھیلا رہے ہیں تو ہم ملک کی معیشت کو مزید کمزور کر یں گے۔یہ ایک بائیو ویپن ہے جس کے ذریعے ملکی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔بارڈر بند ہونے کی وجہ سے تمام ممالک کی معیشت تباہ ہو گئی ۔چائنا ایک ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے جس کی معیشت کو کافی نقصان ہوا۔اب اگر یہی صورت حال پاکستان میں بنائی جائے تو ہماری معیشت مزید کمزور ہو گی۔اور ہم قوم بھی اتنی غیرت مند ہیں کہ فیس ماسک کی قیمتیں دس گناہ بڑھا دی ہے۔یہ ہے ہم لوگوں میں احساس ۔
اصل میں ہم لوگوں پر آزمائش آتی ہے اور اسے عذاب ہم خود بناتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے لوگوں کا دماغ خراب کیا ہوا ہےاور لوگوں کو دہشت زدہ کیا جارہا ہے۔ہر چینل کریڈٹ لینے کے چکر میں سنسی پھیلا رہا ہے۔
ہمیں وائرس سے نہیں خود سے خطرات لاحق ہیں۔کیا تباہ ہونے کے لیے کسی وائرس کی ضرورت ہے۔خدارا اس وائرس کو خود پر مسلط نہ ہونے دیں۔اس جہاں سے مائیگریشن تک بھر پور جیئں۔کیونکہ موت نے اپنے مقرر وقت پہ لازمی آنی ہے چاہے بہانہ کسی وائرس کا ہو یا جنگ کا۔
اللّٰہ پاک پاکستان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور انسانیت کو انسانوں سے لاحق خطرات سے محفوظ رکھے آمین
میرا یہ ایمان ہے وائرس بھی ایک اللّٰہ کی مخلوق ہےاور اس کے حکم کی پابند ہےاور اسی کے حکم سے پھیل رہا ہے۔اور اسی کے حکم سے علاج بھی دریافت ہو گا
غور کرنے کی بات ہے کرونا وائرس سے متاثرہ100 افراد میں سے 2.5 لوگ فوت ہوئے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق تو جب دنیا میں اسکا علاج ہی ممکن نہیں تو باقی کے 97.5 لوگوں کو صحت کون دے رہا ہے ۔ہم الحمدللّٰہ مسلمان ہیں اور ہمیں اللّٰہ پر بھروسہ ہونا چاہیے اور اسی سے مدد مانگیں ۔پانچ وقت نماز کی پابندی کریں اور اللّٰہ پاک سے ڈریں ۔کوئی بھی وائرس آپ تک نہیں آے گا
زندگی بہت تھوڑی ہے اس کو بامقصد بنائیں۔❤
شکریہ۔زcopied
ایئر پورٹ ویران ،ہوٹل ویران ،کسینو ویران
جوئے خانے ویران ،شادی ہال ویران ،سینما گھر ویران ،بازار ویران
دوکانیں ویران ،گہما گہمیاں ختم گئیں ،رونقیں برباد ہو گئیں
تعلیمی ادارے دنیا بھر میں بند ،محفلیں ختم ،سمندر کے کنارے ننگے لوگوں سے ویران' زنا کے اڈے ویران ،شراب خانے ویران ،لوگ نوٹوں سے بھی ڈرنے لگے
امریکا نے یورپ سے آنے والوں کو روک دیا ،پوری دنیا نے منہ چھپا لیئے
جو کہتے تھے نقاب عورت کو قید کرنا ہے سب بے نقابوں نے
نقاب پہن لیئے ،پپیاں جپھیاں ختم ،چمیاں انگریزوں نے ختم کردیں ،کھانسنے والا خود کش لگنے لگا ،دمے والا ایٹم بم ،
ہر بندہ دوسرے سے خوف زدہ ہو گيا ،دنیا کی ترقی وڑ گئی جہاں سے نکلی تھی
سائنس وڑ گئی ،میڈیکل سائنس زمین بوس ہو گئی ،دوائياں راکھ بن گئیں
انجیکشن بے اثر ہو گئے ،موت کے سائے منڈلانے لگے ،چند دنوں میں
خوف نے پوری…
: وائرس میں گھرا پاکستان اور کرونا
پاپ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن جس کے گانوں سے کئی شوقین مزاج لوگوں کی پلے لسٹ بھری ہوتی ہے۔ایک ایسا انسان تھا جو نظام فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا ،اسے چار چیزوں سے سخت نفرت تھی۔
#اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی ۔
#اسے گمنامی سے نفرت تھی
#اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی
#اسے عام لوگوں کی طرح ستر ،اسی برس میں مر جانے سے نفرت تھی وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔وہ ایک ایسا گلوکار بننا چاہتا تھا جو ایک سو پچاس سال کی عمر میں لاکھوں لوگوں کے سامنے ڈانس کرے اور کڑروں مداحین کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
مائیکل جیکسن کی زندگی ان چار خواہشوں کی تکمیل میں گزری۔
اس نے 1982 میں اپنا دوسرا البم "تھرلر "لانچ کیا۔یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ایک ماہ میں اس البم کی ساڑھ چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی۔اور یہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا۔مائیکل جیکسن دنیا کا مشہور گلوکار بن گیا اس نے گمنامی کو شکست دے دی۔
مائیکل نے اس کے بعد اپنی سیاہ رنگت دینے کا فیصلہ کیا اور پلاسٹک سرجری شروع کروادی1987 تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل و صورت،جلد نقوش بدل گئے اور اس نے اپنی سیاہ رنگت کو شکت دے دی۔
اس نے اپنے ماضی کو ختم کرنے کے لیے اپنے پرانے دوستوں اور خاندان سے قطعے تعلق کر لیا اور خود کو مشہور کرنے کے لیے ایلوس پریسلے کی بیٹی "لیزا میری پریسلے سے شادی کر لی لہذا اس نے ماضی سے بھی چھٹکارا حاصل کر لیا۔
اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا۔وہ جراثیم وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کے لئے دستانے پہن کر لوگوں سے ملتا تھا وہ لوگوں میں جانے سے پہلے ماسک چڑھا لیتا تھا اس نے مستقل بارہ ڈاکڑ رکھے ہوئے تھے جو روزانہ اس کی خوراک اور جسم کا معائنہ کرتے۔اسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا۔
لیکن پھر 25 جون کی رات آئی اسے سانس لینے کی دشواری پیش آئی ڈاکٹرز کی بھر پور کوشش کے باوجود وہ اسے نہ بچا سکے۔
وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا۔جس کے گھر میں دن میں چار دفعہ جراثیم کش اسپرے کیے جاتے وہ شخص پچاس سال کی عمر میں تیس منٹ کے اندر انتقال کر گیا۔
اب آتے ہیں کرونا وائرس کی طرف
کورنا وائرس کو لے کر یہ میری پہلی تحریر ہے جو اب تک گوگل سے لی گئی معلومات پر انحصار کرتی ہے۔اس وائرس سے اموات اب تک 2 فی صد بتائی جا رہی ہے لیکن اس کے متعلق خوف وہراس ایسے پھیلایا جا رہا ہے جیسے یہ قیامت ہو۔
اگر پاکستان میں کرونا وائرس کے کیس سامنے آیا ہے تو شور مچانے اور لوگوں کے اندر خوف پیدا کرنے سے الٹا لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اور اس وائرس کو اگر سارے پاکستانیوں میں انجیکٹ کیا جائے تو بھی اموات کی شرح صفر یا ایک فی صد سے اوپر نہیں جائے گی۔
اگر لوگوں میں خوف ہراس پھیلا رہے ہیں تو ہم ملک کی معیشت کو مزید کمزور کر یں گے۔یہ ایک بائیو ویپن ہے جس کے ذریعے ملکی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔بارڈر بند ہونے کی وجہ سے تمام ممالک کی معیشت تباہ ہو گئی ۔چائنا ایک ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے جس کی معیشت کو کافی نقصان ہوا۔اب اگر یہی صورت حال پاکستان میں بنائی جائے تو ہماری معیشت مزید کمزور ہو گی۔اور ہم قوم بھی اتنی غیرت مند ہیں کہ فیس ماسک کی قیمتیں دس گناہ بڑھا دی ہے۔یہ ہے ہم لوگوں میں احساس ۔
اصل میں ہم لوگوں پر آزمائش آتی ہے اور اسے عذاب ہم خود بناتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے لوگوں کا دماغ خراب کیا ہوا ہےاور لوگوں کو دہشت زدہ کیا جارہا ہے۔ہر چینل کریڈٹ لینے کے چکر میں سنسی پھیلا رہا ہے۔
ہمیں وائرس سے نہیں خود سے خطرات لاحق ہیں۔کیا تباہ ہونے کے لیے کسی وائرس کی ضرورت ہے۔خدارا اس وائرس کو خود پر مسلط نہ ہونے دیں۔اس جہاں سے مائیگریشن تک بھر پور جیئں۔کیونکہ موت نے اپنے مقرر وقت پہ لازمی آنی ہے چاہے بہانہ کسی وائرس کا ہو یا جنگ کا۔
اللّٰہ پاک پاکستان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور انسانیت کو انسانوں سے لاحق خطرات سے محفوظ رکھے آمین
میرا یہ ایمان ہے وائرس بھی ایک اللّٰہ کی مخلوق ہےاور اس کے حکم کی پابند ہےاور اسی کے حکم سے پھیل رہا ہے۔اور اسی کے حکم سے علاج بھی دریافت ہو گا
غور کرنے کی بات ہے کرونا وائرس سے متاثرہ100 افراد میں سے 2.5 لوگ فوت ہوئے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق تو جب دنیا میں اسکا علاج ہی ممکن نہیں تو باقی کے 97.5 لوگوں کو صحت کون دے رہا ہے ۔ہم الحمدللّٰہ مسلمان ہیں اور ہمیں اللّٰہ پر بھروسہ ہونا چاہیے اور اسی سے مدد مانگیں ۔پانچ وقت نماز کی پابندی کریں اور اللّٰہ پاک سے ڈریں ۔کوئی بھی وائرس آپ تک نہیں آے گا
زندگی بہت تھوڑی ہے اس کو بامقصد بنائیں۔❤
شکریہ۔زcopied
Tuesday, March 10, 2020
IQBAL (OUR HERO)
اٹھا کے پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
میاں نجّار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے
Subscribe to:
Posts (Atom)