موسیٰ بن نصیر رحمہ اللہ تعالیٰ:
جس طرح حجاج مشرقی ممالک کا سب سے بڑا حاکم تھا، اسی طرح مغربی ممالک کا حاکم ولید بن عبدالملک کے عہدمیں موسیٰ بن نصیرتھا، جس کا جائے قیام مقام قیروان تھا، شمالی افریقہ کے اس سب سے بڑے حاکم کے پاس اندلس کے بعض لوگ آئے اور اپنے بادشاہ لذریق (راڈرک) کے ظلم و ستم کی شکایت کرکے التجا کی کہ آپ اندلس (اسپین) پر چڑھائی کر کے مراکش کی طرح اس کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیں۔
موسیٰ نے اہل اندلس کی اس درخواست پر چند روز غور کیا، اس کے بعد اپنے ایک غلام کو چار کشتیوں میں چار سو سپاہیوں کے ساتھ ساحل اندلس کی طرف روانہ کیا کہ وہاں کے حالات سے آگاہی حاصل ہو اور دوسری طرف خلیفہ ولید سے اندلس پر چڑھائی کرنے کی اجازت طلب کی، خلیفہ نے چڑھائی کی اجازت عطا کر دی، ادھر چار سو سپاہی بھی سالماً غانماً واپس آئے۔
۹۱ھ یا ۹۲ھ میں موسیٰ نے اپنے دوسرے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کو سات ہزار فوج دے کر اندلس پر حملہ کرنے کا حکم دیا، طارق اس زمانہ میں موسیٰ بن نصیر کی طرف سے طنجہ (واقع مراکو) کا حاکم تھا، وہ اپنے سات ہزار ہمراہیوں کے ساتھ کشتیوں پر سوار ہو کر اور بارہ میل کی چوڑی آبنائے جبل الطارق کو عبور کر کے ساحل اندلس پر اترا اور شمال کی جانب متوجہ ہوا، علاقہ شذونہ میں اسپین کا بادشاہ لذریق (راڈرک) ایک لاکھ جرار فوج کے ساتھ طارق کے مقابلہ پر آیا، آٹھ روز تک بڑے زور شور کی لڑائی رہی، آخر آٹھویں روز ۲۸ ماہ رمضان المبارک ۹۲ھ کو شاہ لذریق طارق کے مقابلہ میں مارا گیا اور عیسائی لشکر نے راہ فرار اختیار کی۔
اسی سال سندھ کا راجہ داہر محمد بن قاسمؒ کے مقابلہ میں مارا گیا تھا، اس کے بعد بڑی آسانی سے طارق اندلس کے شہروں کو فتح کرتا ہوا آگے بڑھا، اس فتح عظیم کا حال جب موسیٰ بن نصیر کو معلوم ہوا تو اس نے طارق کوآئندہ پیش قدمی سے رکنے اور اپنے پہنچنے تک انتظار کرنے کے لیے لکھا، مگر طارق اور اس کے بہادر سپاہی اب رک نہیں سکتے تھے، آخر رمضان ۹۳ھ میں موسیٰ بن نصیر بھی اٹھارہ ہزار فوج لے کر اندلس پہنچ گیا اور تمام جزیرہ نمائے اندلس کو کوہ پیری نیز تک فتح کر لیا، مشرقی اندلس میں علاقہ برشلونہ کو فتح کرنے کے بعد موسیٰ نے ولید بن عبدالملک کو لکھا کہ میں نے تمام ملک اسپین کو فتح کر لیا ہے، اب اجازت دیجئے کہ میں یورپ کے اندر ہوتا اور فتوحات حاصل کرتا ہوا قسطنطنیہ پر پہنچوں اور فتح قسطنطنیہ کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔
لیکن ولید بن عبدالملک نے موسیٰ کو لکھا کہ تم اسپین میں کسی کو حاکم مقرر کر کے مع طارق بن زیاد میرے پاس براہ افریقہ واپس آؤ، اگر اس وقت موسیٰ بن نصیر کو اجازت مل جاتی تو یہ کچھ بھی دشوار نہ تھا کہ تمام براعظم یورپ فتح ہو جاتا۔
بہرحال! خلیفہ کے حکم کی تعمیل میں موسیٰ نے اندلس میں اپنے بیٹے عبدالعزیز کو گورنر مقرر کیا اور مراکو اپنے دوسرے بیٹے عبدالملک کو سپرد کیا اور قیروان میں اپنے تیسرے بیٹے عبداللہ کو جانشین بنایا اور اس انتظام سے فارغ ہو کر خود مع تحفہ و ہدایا دمشق کی جانب روانہ ہوا، لیکن یہ جس روز دمشق پہنچا ہے، خلیفہ ولید بن عبدالملک کا انتقال ہو چکا تھا۔
ولید بن عبدالملک کی وفات:
ولید نے اپنے بھائی سلیمان کو ولی عہدی سے معزول کر کے اپنے بیٹوں کو ولی عہد بنانے کی جو کوشش کرنی چاہی تھی، اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکا، اگر وہ چند روز اور نہ مرتا تو شاید اپنے ارادے میں کامیاب ہو جاتا، لیکن اب یہ ہوا کہ سلیمان ان سرداروں کا جنہوں نے ولید کے ارادے کی تائید کی تھی دشمن ہو گیا، نیز ہر ایک اس سے جس کو ولید محبوب و مکرم رکھتا تھا، سلیمان کو دشمنی ہو گئی اور اس کا نتیجہ آئندہ عالم اسلام کے لیے کسی قدر مضر ثابت ہوا۔
ولید بن عبدالملک نے ۱۵ جمادی الثانی ۹۶ھ، مطابق ۲۵ فروری ۷۱۵ء میں پنتالیس سال، چند ماہ کی عمر میں نو سال، آٹھ مہینے خلافت کرنے کے بعد ملک شام کے مقام دیر مران میں وفات پائی اور ۱۹ بیٹے چھوڑے۔
ولید کے عہد خلافت میں سندھ، ترکستان، بخارا، سمر قند وغیرہ اور اندلس، ایشیائے کوچک کے اکثر شہر و قلعے اور بعض جزیرے اسلامی حکومت میں شامل ہوئے، ولید کی خلافت مسلمانوں کے لیے ایک طرف راحت و آرام اور خوش حالی کا زمانہ تھا تو دوسری طرف فتوحات ملکی کا خاص زمانہ تھا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد اس قدر عظیم و اہم فتوحاتِ مُلکی اور کسی خلیفہ کے زمانہ میں اب تک مسلمانوں کو حاصل نہ ہوئی تھیں، جب ولید کا انتقال ہوا تو اس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک مقام رملہ میں تھا۔
سلیمان بن عبدالملک بیعتِ خلافت:
سلیمان اپنے بھائی ولید سے چار سال عمر میں چھوٹا تھا، ولید کی وفات کے بعد اس کے ہاتھ پر جمادی الثانی ۹۶ھ میں بیعت خلافت ہوئی، حجاج چوں کہ سلیمان کو ولی عہدی سے معزول کرانے میں ولید کا ہم خیال تھا اور قتیبہ بن مسلم بھی اس معاملہ میں حجاج و ولید کا ہم نوا تھا، لہٰذا سلیمان کو حجاج و قتیبہ دونوں سے سخت عداوت تھی، حجاج سلیمان کے خلیفہ ہونے سے پہلے ہی فوت ہو چکا تھا، قتیبہ البتہ خراسان کی گورنری پر مامور اور زندہ موجود تھا، قتیبہ کو اس بات کا احساس تھا کہ سلیمان کی خلافت میں میرے ساتھ کس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا۔
قتیبہ بن مسلم باہلیؒ کا قتل:
قتیبہ بن مسلم باہلی امیر خراسان نے جب سناکہ ولید فوت ہو گیا اور اس کی جگہ سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو اس نے خراسان کی تمام موجودہ فوج اور سرداران لشکر کو جمع کرکے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ سلیمان بن عبدالملک کی خلافت سے انکار کرناچاہیئے، قتیبہ کے پاس جو فوج تھی، اس میں ایک زبردست حصہ بنو تمیم کا تھا، بنو تمیم کا سردار وکیع تھا، وکیع نے یہ رنگ دیکھ کر لوگوں سے سلیمان بن عبدالملک کی بیعت خلافت لینی شروع کر دی، رفتہ رفتہ یہ خبر تمام لشکر میں پھیلی اور تمام قبائل وکیع کے گرد جمع ہو گئے، قتیبہ نے ہر چند کوشش کی کہ لوگ اس کی باتیں سنیں اور اس سے افہام و تفہیم کریں، لیکن پھر کسی نے اس کی بات نہ پوچھی اور علانیہ گستاخیاں کرنے لگے، قتیبہ کے ساتھ اس کے بھائی اور بیٹے اور رشتہ دار شریک رہے، آخر لشکریوں نے لوٹ مار شروع کر دی اور قتیبہ کی ہر چیز کو لوٹنا اور جلانا شروع کیا، قتیبہ کے رشتہ داروں نے قتیبہ کے خیمہ کی حفاظت کرنی چاہی، لیکن وہ سب مارے گئے اور بالآخر قتیبہ بھی بہت سے زخم کھا کر بے ہوش زمین پر گرا اور لوگوں نے فوراً اس کا سر کاٹ لیا، قتیبہ کے صرف بھائی اور بیٹے گیارہ شخص مارے گئے، اس کے بھائیوں میں صرف ایک شخص عمر بن مسلم اس لیے بچ گیا کہ اس کی ماں قبیلہ بنو تمیم سے تھی، وکیع نے قتیبہ کا سر اور اس کی انگوٹھی خراسان سے سلیمان بن عبدالملک کے پاس بھجوا دی۔
قتیبہ بن مسلم خاندان بنو امیہ کے سرداروں میں نہایت زبردست فتح مند اور نامور سردار تھا۔ ایسے زبردست سردار کی ایسی موت نہایت افسوس ناک حادثہ ہے، لیکن چوں کہ اس نے خلیفہ وقت کے خلاف کوشش کرنے میں ناعاقبت اندیشی سے کام لیا تھا، لہٰذا سلیمان بن عبدالملک پر قتیبہ کے قتل کا کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔
==================> جاری ہے ۔۔۔
تاریخ اسلام۔ جلد ②، مولانا شاہ اکبر نجیب آبادی صاحب
No comments:
Post a Comment