Monday, April 6, 2020

#تنخواہ

#تنخواہ

سب دوست اپنی اپنی تنخواہ بتا رہے تھے۔ پروفیسر صاحب کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ تھی۔
وکیل صاحب بھی مہینے میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ اکٹھا کرلیتے تھے۔
احمد انجینئر تھا۔ ماہانہ تین لاکھ روپے کما رہا تھا۔ڈاکٹر صاحب سرکاری ہسپتال میں ڈیوٹی دینے کے بعد تین چار گھنٹے کلینک میں بھی بیٹھتے تھے۔ وہ بھی ایک لاکھ سے اوپر ماہانہ کما لیتے تھے۔
عزیر کسی بڑی سرکاری ادارے میں بہت بڑا افسر تھا۔ اچھا خاصا کما لیتا تھا۔
آخر میں میرا نمبر تھا۔ سب مجھے دیکھ رہے تھے اور میں نیچے دیکھ رہا تھا۔
میں مسجد کا امام تھا۔

سیف الرحمن ادیؔب

No comments:

Post a Comment