Monday, April 6, 2020

گاوں میں لوگوں کی اکثریت کورونا وبا کی تباہ کاریوں سے لاپرواہ تھی

بہترین سنہری تحریریں

گاوں میں لوگوں کی اکثریت کورونا وبا کی تباہ کاریوں سے لاپرواہ تھی اور اسی لاپرواہی اور بے احتیاطی کو ایمان کی مضبوطی قرار دے رہی تھی۔میرے سارے دلائل بے کار گئے تو میں نے ایک کہاوت یا لطیفے کا سہارا لے کر ان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔قائل ہوے یا نہیں یہ تو پتہ نہیں چلا لیکن کچھ سوچ میں ضرور پڑ گئے۔
کہاوت کچھ یوں ہے کہ ایک گاوں میں سیلاب آگیا۔لوگ اونچے مقامات اور پہاڑوں کی طرف بھاگنے لگے۔لیکن گاوں کے ایک  صاحب میدان میں کھڑے ہوگئے۔اور بھاگنے سے انکار کرکے فرمانے لگے کہ میرا خدا مجھے بچا لےگا۔ایک کسان گھوڑا دوڑاتا ہوا آیا اور درخواست کی کہ حضور آئیں میرے پیچھے گھوڑے پر سوار ہوکر بھاگیں ورنہ ڈوب جائینگے. صاحب نے انکار کیا اور جلالی کیفیت میں ان کو ڈانٹ کر بھگا دیا کہ تم لوگوں کا اللہ پر عقیدہ نہیں ہے اس لئے بھاگ رہے ہو۔میرا اپنے اللہ پر عقیدہ ہے۔وہ مجھے ڈوبنے نہیں دیگا۔جب پانی اس کے گلے تک پہنچ گیا تو ایک آدمی کشتی لے کر آگیا اور عرض کیا کہ حضرت آئیں میرے ساتھ کشتی میں سوار ہوجائیں ورنہ ڈوب جائینگے۔پیر صاحب کے انکار پر وہ بھی مایوس ہو کر چلا گیا۔جب پانی ناک تک آگیا تو اتنے میں ایک سرکاری ہیلی کاپٹر نمودار ہوا اور فورا ہیلی کاپٹر سے رسی کی سیڑھیاں لٹکا کر  صاحب کو آواز دی گئی کہ سیڑھی پر چڑھ کر اوپر ہیلی کاپٹر میں آجائیں  صاحب نے پھر بھی انکارکیا۔ ہیلی کاپٹر والے بھی مایوس ہوکر چلے گئے۔ آخر کار پانی اور اونچا ہونے پر صاحب ڈوب کر مرگئے۔خدا کے سامنے پیش کئے گئے تو صاحب نے خدا سے بڑے گلے شکوے شروع کئے کہ میرا آپ پر کتنا بڑا بھروسہ تھا لیکن آپ نے مجھے پھر بھی سیلاب میں ڈبو دیا۔ اللہ نے جواب دیا کہ میں نے تو آپ کو بچانے کیلئے بڑی کوششیں کیں۔لیکن تم خود ہی ڈوب کر مرنے پر بضد تھے۔پہلے میں نے آپ کو بچانے کیلئے گھوڑا بجھوایا ۔آپ نہیں مانے۔پھر میں نے آپ کو بچانے کیلئے کشتی بجھوادی۔آپ پھر بھی نہیں مانے آخر میں  آپ کو بچانے کیلئے میں نے ایک ہیلی کاپٹر بھی بجھوایا۔لیکن آپ پھر بھی نہیں مانے۔ تو میں آپ کیلئے اور کیا کر سکتا تھا۔
کہاوت یا لطیفہ سنانے کے بعد میں نے لوگوں سے کہا کہ دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا ' احتیاطی تدابیر '  اور علاج سارے سنت ہیں۔یہ ڈاکٹر میرے اللہ نے پیدا کئے ہیں۔ ان کو یہ علم بھی میرے اللہ نے دیا ہے۔ان کی دوائیں اور ان کی بتائی جانے والی احتیاطیں بھی میرے اللہ نے ان کو سکھائی ہیں۔ورنہ انسان کے پاس تو اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔
علم الانسان بالقلم۔علم الانسان مالم یعلم (القرآن)
اس لئے کسی بھی بیماری سے بچنے کیلئے ڈاکٹروں کی طرف سے بتائی جانے والی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور بیمار ہونے پر ان کی تجویز کردہ دوائی کا استعمال عین شریعت کے مطابق یے۔

No comments:

Post a Comment