آ بتاوٴں تجھے کہ تری بربادیوں کا سبب کیا ہے
پہلے کیا ہوتا تھا تو اور دیکھ اب کیا ہے
تم نے ناطہٴ دل کا تعلق قرآن سے ترک جب کیا ہے
پھر تجھے اپنی ہی کی ہوئی تباہی پہ تعجب کیا ہے
جو دین و ملت نے اگر تم سے کچھ لہُو طلب کیا ہے
تم کیا جانو کہ تڑپتی ہوئی ملت کا کرب کیا ہے
کبھی ہو اکرتی تھیں ترے ہاتھوں میں ہواوٴں کی لگامیں
دست غیر میں آئی تمہاری لگام، ترک دستور تلوار جب کیا ہے
حسبنا الله ونعم الوكيل
No comments:
Post a Comment