Wednesday, February 26, 2020

بھوکے کو فلسفہ نہیں روٹی چاہیے

"بھوکے کو فلسفہ نہیں روٹی چاہیے"

 مرنے سے پہلے میں نے اسے خودکشی سے بہت روکا۔ 

اس نے کہا! کھانا لائے ہو؟ میں نے کہا کہ زندگی سے ہارنا بزدلی ہے۔ اس نے کہا! میرے بچے کئی روز کے بھوکے ہیں۔ میں نے کہا روٹی کا ضامن اللہ ہے۔  میں نے کہا وہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ اس نے کہا!کیا بھوکوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے؟ میں نے کہا! زندگی بہت خوبصورت ہے۔ اس نے کہا! جب بھوکے بچوں کی چیخیں سماعتوں سے ٹکراتی رہیں تو زندگی بدصورت بن جاتی ہے۔ میں نے اسے کہا دیکھو! خودکشی حرام ہے۔ اس نے کہا! جب زندگی حرام ہوجائے تو خودکشی حلال ہوجاتی ہے۔ اور وہ لٹک گئی۔۔ 

عین اسوقت مجھے مارکس کی کہاوت یاد آئی کہ 

"جب پیٹ خالی ہو تو زندگی کا کوئی فلسفہ اثر نہیں کرتا۔"

 کسی بھوکے کی طرف کسی نے روٹی والا ہاتھ بڑہایا تو اس بھوکے نے کہا 

تھا کہ کیا تم خدا ہو؟!...

ہمیں کچھ غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔

1 comment: